Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

7/13/26

Accepting Guest Posts on Our High-Traffic Website | Boost Your SEO with Do-Follow Backlinks

🚀 Accepting Guest Posts on High-Traffic Website! 🚀 Looking to boost your website’s SEO, rankings, and drive organic traffic?

We are now accepting premium guest posts on our high-traffic platform!

 📊 Website Stats: Daily Traffic: 2,500+ Unique Visitors

 Monthly Traffic: 75,000+ Organic Visitors

Niche: General

Link Type: 100% Do-Follow & Permanent

Link Indexing: Google Fast Indexing Guaranteed! 🎯

Why Choose Us?

High-quality content placement, no spammy links, and a clean link profile to give your site the ultimate SEO boost.

📩 Limited Slots Available! PM/Inbox me now with your article or pitch to get the best discounted rates!

Sohailarif89@gmail.com

 

Share:

اغراء و تحذیر Ighra wa Tahzeer ke Ahkam | Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد

اغراء و تحذیر *(مفعول بہ کے فعل کے حذف کی دوسری صورت)*

۱۔ اغراء (اکسانا) اس سے مراد یہ ہے کہ مخاطب کو کوئی پسندیدہ کام کرنے پر اکسایا جائے، جس پر اکسایا جائے، اسے منصوب ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے پہلے *اِلْزَمْ* فعل محذوف ہوتا ہے۔ جیسے *اَلصِّدْقَ* اصل میں *اِلْزَمِ الصِّدْقَ* تھا۔

 اس کی تین صورتیں ہیں: ۱۔ مفرد، ۲۔ معطوف علیہ، ۳۔ مکرر

مفرد:  اس سے مراد یہ ہے کہ جس کام پر اکسایا جائے، اسے اکیلا ذکر کیا جائے۔ جیسے مذکور مثال۔

معطوف علیہ:اس سے مراد یہ ہے کہ جو اسم اغراء کے لیےلایا جائے، اسے معطوف علیہ اور معطوف کی شکل میں ذکر کیا جائے۔ جیسے *اَلْعَمَلَ وَالْعَزْمَ* اصل میں *اِلْزَمِ الْعَمَلَ وَالْعَزْمَ* تھا۔

مکرر:  یہ کہ اغراء کے لیےلائے ہوئے اسم کو دوبارہ ذکر کیا جائے۔ جیسے *اَلْإِحْسَانَ اَلْإِحْسَانَ* اصل میں *اِلْزَمِ الْإِحْسَانَ اَلْإِحْسَانَ* تھا۔

نوٹ:* آخری دونوں صورتوں میں فعل کو حذف کرنا واجب ہے اور پہلی صورت میں جائز ہے۔

۲۔ تحذیر (ڈرانا) تحذیر کا مطلب ہے کہ مخاطب کو ناپسندیدہ اور خطرناک چیز سے ڈرایا جائے، جس چیز سے ڈرایا جائے، اسے محذر منہ اور جسے ڈرایا جائے اسے محذر کہتے ہیں۔ محذر منہ فعلِ محذوف کا مفعول بہ ہوتا ہے۔ یہ *اِتَّقِ، **بَاعِدْ* اور *اِحْذَرْ* وغیرہ ہیں۔

 محذر منہ کی تین صورتیں ہیں: مفرد، مکرر اور معطوف علیہ۔

مفرد کی مثال:* *اَلْكَسَلَ* اصل میں *اِحْذَرِ الْكَسَلَ* ہے۔ * *مکرر کی مثال:* *اَلْكَذِبَ اَلْكَذِبَ* اصل میں *اِحْذَرِ الْكَذِبَ اَلْكَذِبَ* ہے۔

معطوف علیہ کی مثال: *رَأْسَكَ وَالسَّيْفَ* اصل میں *بَاعِدْ رَأْسَكَ وَاحْذَرِ السَّيْفَ* ہے۔ مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ تحذیر کی ایک اور صورت بھی ہے کہ محذر منہ سے پہلے ضمیرِ منصوب منفصل ذکر کی جائے۔ جیسے *إِيَّاكَ وَالرِّيَاءَ* اصل میں *إِيَّاكَ بَاعِدْ وَاحْذَرِ الرِّيَاءَ* ہے۔ ضمیر کے بعد محذر منہ کے استعمال کی تین صورتیں ہیں اور ان تینوں صورتوں میں *فعل کو حذف کرنا واجب ہے:

۱۔  محذر منہ واؤ عاطفہ کے بعد ذکر کیا جائے۔ جیسے *إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ* یعنی *إِيَّاكَ بَاعِدْ وَاحْذَرِ الْأَسَدَ* ہے۔

۲۔ محذر منہ *مِنْ* حرفِ جر کے بعد ذکر کیا جائے۔ جیسے *إِيَّاكَ مِنَ الشَّرِّ* یعنی *إِيَّاكَ بَاعِدْ مِنَ الشَّرِّ* ہے۔

۳۔ محذر منہ مصدرِ مؤول ہو۔ جیسے *إِيَّاكَ أَنْ تَكْسَلَ* یعنی *إِيَّاكَ بَاعِدْ مِنْ أَنْ تَكْسَلَ* ہے۔

نوٹ:  تحذیر کی اس آخری صورت میں محذر منہ سے پہلے واؤ عاطفہ یا *مِنْ* حرفِ جر کا ہونا ضروری ہے، لفظاً ہو یا تقدیراً جیسے مذکور مثال۔

سوالات

۱۔ اغراء اور تحذیر کے معنی میں کیا فرق ہے؟

۲۔  اغراء اور تحذیر کی کتنی صورتیں مشترک ہیں؟

۳۔  تحذیر کی علیحدہ صورت کیا ہے، اور اس کی شرط کیا ہے؟

 ۴۔ درج ذیل فقرات کی ترکیب کریں:

۱۔ *إِيَّاكُمْ وَالْأَشْرَارَ* * ۲۔ *اَلتَّدْبِيرَ وَالْاِقْتِصَادَ* * ۳۔ *اِنْجَازَ الْوَعْدِ* * ۴۔ *إِيَّاكَ أَنْ تَطْمَعَ فِي مَا لَيْسَ لَكَ* * ۵۔ *اَلْإِخْلَاصَ*

۵۔ اغراء اور تحذیر کی کن صورتوں میں فعل کو حذف کرنا واجب ہے؟

 

Share:

منادٰی مستغاث بہ مندوب کابیان | Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد

۱۔ منادٰی  (مفعول بہ کے فعل کے حذف کی پہلی صورت)

وہ اسم، جس سے پہلے حرفِ نداء آئے، اس کی تین صورتیں ہیں: ۱۔ منادٰی ۲۔ مستغاث بہ ۳۔ مندوب

۱۔ منادٰی (جسے بلایا جائے)

 یہ نداء سے مشتق ہے جس کا معنی پکارنا یا بلانا ہے، اس سے مراد وہ اسم ہے، جسے حرفِ نداء کے بعد ذکر کیا جاتا ہے اور اسے اپنی طرف بلایا جاتا ہے۔ جیسے *يَا خَلِيلُ!* (اے خلیل) *أَيَا عَبْدَ اللهِ!* (اے عبداللہ)

 حروفِ نداء پانچ ہیں: *يَا، أَيَا، هَيَا، أَيْ، همزه۔

منادٰی اصل میں فعلِ محذوف *أَدْعُوْ* کا مفعول بہ ہے، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے: *يَا خَلِيلُ* اصل میں *أَدْعُوْ خَلِيْلًا* ہے (میں خلیل کو بلاتا ہوں) *أَدْعُوْ* صیغہ واحد متکلم فعل مضارع معروف اس میں *اَنَا* ضمیر فاعل، *خَلِيْلًا* مفعول بہ ہے، *أَدْعُوْ* کو کثرتِ استعمال کی وجہ سے حذف کر دیا اور حرفِ نداء کو اس کے قائم مقام رکھ دیا۔

منادٰی کا اعراب

۱۔  اگر منادٰی مفرد معرفہ یا نکرہ معین ہو تو مبنی بر رفع ہوتا ہے۔ جیسے *يَا زَيْدُ، يَا تِلْمِيْذُ*۔  مفرد معرفہ سے مراد یہ ہے کہ نہ مضاف ہو اور نہ ہی مشابہ مضاف.

۲۔ اگر منادٰی مضاف یا مشابہ مضاف یا نکرہ غیر معین ہو تو منصوب ہوتا ہے۔ جیسے *يَا رَسُولَ اللهِ* (مضاف کی مثال)، *يَا رَاكِبًا فَرَسًا، يَا مُسَافِرًا إِلَى لُبْنَانَ* (مشابہ مضاف کی مثال) *يَا مُسْرِعًا فِي الْعَجَلَةِ النَّدَامَةُ* (نکرہ غیر معین کی مثال)

۳۔  اگر منادٰی مفرد معرفہ کے بعد ابن یا بنت کا لفظ آ جائے تو منادٰی مع ابن اور بنت منصوب اور بعد والا علم مجرور ہوگا۔ جیسے *يَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ*

۴۔ اگر منادٰی معرف باللام ہو تو حرفِ نداء اور منادٰی کے درمیان مذکر کے لئے *أَيُّهَا* اور مؤنث کے لئے *أَيَّتُهَا* کا لفظ بڑھا دیتے ہیں۔ جیسے * یٰٓاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِ * (مذکر کی مثال)، * یٰٓاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُ* (مؤنث کی مثال)۔ مگر لفظِ اللہ سے پہلے * أَيُّهَا * نہیں بڑھاتے۔ جیسے *يَا اَللهُ* اور دعا کے موقع پر لفظِ اللہ سے پہلے حرفِ نداء کو گرا کر آخر میں میم مشدد بڑھا دیتے ہیں۔ جیسے *اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ، اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ*۔ *۵۔* اگر حرفِ نداء کے بعد غلام، رب، اَب، ام اور صاحب وغیرہ کے الفاظ یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو چار طرح پڑھنا جائز ہے۔ جیسے *يَا غُلَامِيْ، يَا غُلَامِ، يَا غُلَامَ، يَا غُلَامَا*۔ کبھی *اَبِیْ* اور *اُمِّیْ* کی ی کو ت سے بدل دیتے ہیں۔ جیسے *يَا اَبَتِ* (اے میرے باپ)، *يَا اُمَّتِ* (اے میری ماں)۔ *۶۔* کبھی منادٰی سے پہلے حرفِ نداء کو حذف کر دیتے ہیں۔ جیسے *يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ* اصل میں *يَا يُوْسُفُ* اور *يَا اَيُّهَا النَّبِیُّ * تھے۔

منادٰی کی ترخیم: ترخیم کا معنی کسی چیز کی دم کاٹنا ہے اور نحویوں کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ منادٰی ہے جس کا آخری حرف تخفیفاً گرا دیا جائے، اسے منادٰی مرخم کہتے ہیں، اور اس عمل کو منادٰی کی ترخیم کہتے ہیں۔ جیسے *يَا صَفْ، يَا حَارِ، یہ اصل میں **يَا صَفْوَةُ* اور *يَا حَارِثُ* تھے۔ منادٰی مرخم میں شرط یہ ہے کہ وہ علم مفرد ہو، حروف تین سے زائد ہوں، مبنی بر ضمہ ہو جیسے *يَا جَعْفُ* کہ اصل میں *يَا جَعْفَرُ* تھا۔ منادٰی مرخم کو اپنی اصلی حالت پر رکھنا اور مبنی بر ضمہ پڑھنا دونوں جائز ہیں۔

 

مستغاث بہ

 مستغاث استغاثہ سے ہے، جس کا معنی تکلیف دور کرنے کے لئے کسی معاون کو پکارنا ہے، جسے پکارا جائے، اسے مستغاث بہ اور جس کے لیے پکارا جائے، اسے مستغاث لاجلہ کہتے ہیں۔ جیسے *يَا لَلْأَمِيْرِ لِلْفَقِيْرِ*۔ اس مثال میں *للامیر* مستغاث بہ اور *للفقیر* مستغاث لاجلہ ہے۔ استغاثہ کے لیے *يا* حرفِ نداء خاص ہے اور یہ فعل *أَلْتَجِئُ* کے قائم مقام ہوتا ہے، جو مستغاث بہ سے پہلے وجوباً محذوف ہوتا ہے۔

 مستغاث بہ کے اعراب کی حسبِ ذیل صورتیں ہیں:

۱۔مستغاث بہ مجرور ہوتا ہے جب اس سے پہلے لامِ استغاثہ ہو۔ جیسے *يَا لَلْجَوَادِ لِلْمِسْكِيْنِ۔ یہ لامِ استغاثہ مفتوح ہوتا ہے، جب یہ حرفِ نداء "یا" کے متصل بعد آئے اور اگر لامِ استغاثہ اور یاء کے درمیان حرفِ عطف کے ساتھ فاصلہ ہو تو مجرور ہوتا ہے۔ جیسے **يَا لَلْكِرَامِ وَلِلْمُحْسِنِيْنَ لِلضُّعَفَاءِ

۲۔مستغاث بہ مفتوح ہوتا ہے جب اس کے آخر میں الفِ استغاثہ آ جائے اور اس وقت اس سے پہلے لامِ استغاثہ نہیں ہوتا۔ جیسے *يَا مُحَمَّدَا، يَا قَوْمَا*

۳۔جب اس کی ابتداء میں نہ لامِ استغاثہ ہو اور نہ ہی آخر میں الفِ استغاثہ ہو تو اس کا اعراب منادٰی کے اعراب کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے *يَا عَلِيُّ، يَا أَهْلَ الْجُوْدِ*۔ مستغاث لاجلہ کا حکم یہ ہے کہ یہ مجرور ہوتا ہے، کبھی اس پر لامِ مکسور داخل ہوتا ہے، جیسے *يَا لَلرَّجُلِ الْمُرُوْءَةِ لِلْبَائِسِ، بائِس مستغاث لاجلہ ہے اور کبھی اس سے پہلے **مِنْ* حرفِ جر ہوتا ہے۔ جیسے *يَا لَلْحُكَّامِ مِنَ الْغَلَاءِ*۔ مستغاث لاجلہ اپنے جار سے مل کر اس فعلِ محذوف کے متعلق ہوتا ہے جس کے قائم مقام حرفِ نداء ذکر کیا جاتا ہے۔ جیسے *أَلْتَجِئُ

مندوب

 مندوب ندبہ سے مشتق ہے اور ندبہ کا معنی مردے کی خوبیاں شمار کرنا ہے۔ اصطلاح میں مردہ یا مصیبت زدہ کو حرفِ نداء واؤ یا یاء کے ساتھ پکار کر رونے کو ندبہ کہتے ہیں اور جسے رویا جائے یا جس پر دکھ ظاہر کیا جائے، اسے مندوب کہتے ہیں۔ جیسے *وَارَجُلُ* (ہائے مرد) یَا مُثِيْرَ الْحَرْبِ* (ہائے جنگ برپا کرنے والے)۔

مندوب مفعول بہ ہوتا ہے، اس سے پہلے *أَنْدُبُ* یا *أَتَوَجَّعُ* فعل محذوف ہوتا ہے۔ حرفِ ندبہ واؤ یا یاء کو اس فعل کے قائم مقام ذکر کیا جاتا ہے۔ *وَارَجُلُ* اصل میں *أَنْدُبُ الرَّجُلَ* تھا اور *يَا مُثِيْرَ الْحَرْبِ* اصل میں *أَتَوَجَّعُ مُثِيْرَ الْحَرْبِ* تھا۔ ان مثالوں میں *رَجُلُ* اور *مُثِيْرَ الْحَرْبِ * مندوب ہیں۔

مندوب کے استعمال کی تین صورتیں ہیں:

۱۔ اسے منادٰی کی طرح اعراب دیا جاتا ہے۔ جیسے *وَاحُسَيْنُ، وَاغُلَامَ الرَّجُلِ

۲۔ اس کے آخر میں الفِ ندبہ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسے *وَاحُسَيْنَا وَيَا رَجُلَا*۔

 ۳۔اس کے آخر میں الفِ ندبہ کے بعد کبھی ہائے وقف کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسے *وَاحُسَيْنَاهُ يَا كَبِدَاهُ، وَامُصِيْبَتَاهُ* (ہائے مصیبت)۔

 * *واؤ* مندوب کے ساتھ خاص ہے اور *یاء* منادٰی اور مندوب دونوں میں مشترک ہے۔ * اور یاء مندوب کے لیے اس وقت استعمال ہوتا ہے جب التباس کا اندیشہ نہ ہو۔ * مندوب اور مستغاث بہ سے پہلے حرفِ نداء کا حذف کرنا جائز نہیں۔

سوالات

۱۔ منادٰی، مندوب اور مستغاث بہ کسے کہتے ہیں؟

۲۔ مندوب کے لئے کون سے الفاظ خاص ہیں؟

۳۔ منادٰی اور مندوب کے اعراب کی کیا صورتیں ہیں؟

۴۔ مستغاث بہ کے اعراب کی کتنی صورتیں ہیں؟

۵۔ ترخیم کا کیا معنی ہے؟

۶۔ درج ذیل جملوں میں منادٰی، مندوب اور مستغاث بہ کو متعین کریں:

* ۱۔ *يَا رِجَالُ اتَّقُنُوْا اَعْمَالَكُمْ* * ۲۔ *يَا لَا هِيًا عَنْ دَرْسِهِ* * ۳۔ *اَجِبْ دُعَائِیْ اَيَا مُجِيْبَ الدُّعَاءِ* * ۴۔ *يَا لَرِجَالِ الْمَالِ لِلْفُقَرَاءِ* * ۵۔ *جُوْدُوْا يَا اَهْلَ الْفَضْلِ* * ۶۔ *يَا حُفَّاظَ الْاَمْنِ لِكَثْرَةِ الْجَرَائِمِ* * ۷۔ *وَابْنَتَاهْ* * ۸۔ *يَا قَلْبَاهْ* * ۹۔ *يَا لَعَلِيٍّ لِلْيَتَامٰی*

۷۔ درج ذیل اسماء سے پہلے حرفِ نداء لگا کر اعراب لگائیں:

 * ۱۔ *اَبُو الْفَضْلِ* * ۲۔ *مُجْتَهِدٌ فِيْ دَرْسِهِ* * ۳۔ *غَافِلٌ* * ۴۔ *خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ* * ۵۔ *اَلنَّاسُ* * ۶۔ *عَلِيٌّ* * ۷۔ *اَلْكَافِرُوْنَ* * ۸۔ *اَلنِّسَاءُ*

 

Share:

منصوبات کا بیان | Mansubaat ka bayan | Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد

منصوبات کا بیان

وہ اسماء ہیں جنہیں فعل نصب دیتا ہے یہ تعداد میں آٹھ ہیں:

 1-5۔مفاعیل خمسہ (پانچوں مفعول )  6۔حال 7۔تمیز 8۔مستثنی

مفاعیل خمسہ:  اسم کے منصوب ہونے کی پہلی پانچ صورتیں ۔

منصوبات جمع ہے منصوب کی منصوب اس اسم کو کہتے ہیں جس پر نصب ہو اور اس سے مراد وہ اسماء ہیں جن کو فعل بطور مفعول نصب دیتا ہے جیسے حَفِظْتُ الدَّرْسَ اور یہ پانچ ہیں:

1۔ مفعول بہ       2۔مفعول مطلق    3۔مفعول فیہ       4۔مفعول لہ        5۔مفعول معہ

مفعول بہ

 وہ اسم منصوب ہے جس پر فاعل اپنا فعل واقع کرے اور فعل متعدی اسے نصب دے جیسے شد التلمیذ الحبل  طالب علم نے رسی باندھی  یہ کبھی فعل سے اور کبھی فاعل سے پہلے آ جاتا ہے جیسے اَلدَّرْسَ حَفِظْتُ، قَطَعَ الْحَبْلَ الْوَلَدُ۔  ان مثالوں میں الْحَبْلَ اور اَلدَّرْسَ مفعول بہ ہیں جو فعل اور فاعل سے پہلے آئے ہیں ۔

مفعول بہ اگرچہ فاعل کے بعد آتا ہے مگر درج ذیل صورتوں میں اسے فاعل سے مقدم کرنا ضروری ہے۔

1۔جب فاعل کے ساتھ ایسی ضمیر متصل ہو جو مفعول بہ کی طرف لوٹے جیسے اکرم الاستاذ تلمیذہ استاد کی اس کے شاگرد نے عزت کی

 2۔ جب مفعول بہ ضمیر منسوب متصل ہو جیسے اَکْرَمَنِیَ الْاَمِیْرُ( امیر نے میری عزت کی)

2۔مفعول بہ ایسا کلمہ ہو جس کا ابتدائے کلام میں آنا ضروری ہو جیسے مَنْ اَخَذْتَ (تو نے کس کو پکڑا )کَمْ کِتَابًا قَرَأْتَ ( تو نے کتنی کتابیں پڑھیں )ان مثالوں میں مَنْ اور کَمْ کِتَابًا مفعول بہ ہیں ۔

مفعول بہ کے فعل کا حذف

جب قرینہ پایا جائے تو مفعول بہ سے پہلے اس کے فعل کا حذف کرنا واجب ہے اور یہ تین صورتیں ہیں:

1۔ ندا    2۔اغرا و تحذیر      3۔اشتغال

 

Share:

7/6/26

Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد | جملہ فعلیہ | فاعل | نائب الفاعل

جملہ فعلیہ

جملہ فعلیہ وہ جملہ ہے جو فعل اور فاعل سے مل کر بنتا ہے ۔فعل کو مسند اور فاعل کو مسند الیہ کہتے ہیں جیسے:   لَمَعَ الْبَرْقُ (بجلی چمکی)۔ یَسْقُطُ الثَّلْجُ( برف گرتی ہے ہر فعل خواہ لازم ہو یا متعدی  اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے اور اگر متعدی ہو تو فاعل کے علاوہ مفعول بہ کو نصب بھی دیتا ہے۔

فاعل کے احکام:

 فاعل وہ اسم مرفوع ہے جس سے پہلے کوئی فعل یا شبہ فعل (اسم فاعل اسم مفعول اسم تفضیل صفت مشبہ اور مصدر )میں سے کوئی آ جائے اور اسے رفع(پیش) دے اور اس فعل یا شبہ فعل کا قیام اس سے ہو۔  جیسے وَقَفَ الثَّوْرُ (بیل کھڑا ہوا )شبہ فعل کی مثال الرَّجُلُ قَائِمٌ اِبْنُہٗ ان مثالوں میں الثَّوْرُ اور اِبْنُہ فاعل ہیں۔

فاعل کے اقسام:  اس کی دو قسمیں ہیں: اسم ظاہر اور اسم ضمیر

اسم ظاہر :اس سے مراد یہ ہے کہ فعل یا شبہ فعل کے بعد فاعل اسم ظاہر ہو ضمیر نہ ہو جیسے طَارَ الْعُصْفُوْرُ ۔اَکَلَ التِّلْمِیْذُ خُبْزًا

۱۔جب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل یا شبہ فعل ہمیشہ واحد ہوں گے اور تذکیر و تانیث میں فاعل کے مطابق ہوں گے اگر فاعل مذکر ہو تو فعل مذکر ہوگا اگر فاعل مونث ہو تو فعل مونث ہوگا جیسے قَذَفَ الطِّفْلُ الْكُرَةَ (بچے نے گیند پھینکی ) لَعِبَتْ فَاطِمَةُ (فاطمہ کھیلی )

لَعِبَ الطِّفْلُ                          لَعِبَ الطِّفْلَانِ              لَعِبَ الْاَطْفَالُ

لَعِبَتِ الْبِنْتُ                  لَعِبَتِ الْبِنْتَانِ          لَعِبَتِ الْبَنَاتُ

اسم ضمیر :اس سے مراد یہ ہے کہ فاعل اسم ظاہر نہ ہو بلکہ ضمیر مرفوع متصل ہو خواہ ’’ بَارِزٌ‘‘ یعنی ظاہر ہو یا’’ مُسْتَتِرٌ ‘‘یعنی پوشیدہ ہو تو فعل یا شبہ فعل واحد تثنیہ جمع و تذکیر و تانیث میں ضمیر کے مرجع کے مطابق ہوگا  جیسے فَاطِمَةُ لَعِبَتْ اس مثال میں ھِیَ ضمیر فاعل ہے۔

الطِّفْلُ لَعِبَ                          الطِّفْلَانِ لَعِبَا                 الْاَطْفَالُ لَعِبُوا

الْبِنْتُ لَعِبَتْ                  الْبِنْتَانِ لَعِبَتَا             الْبَنَاتُ لَعِبْنَ

ان مثالوں میں الطِّفْلُ اور الْبِنْتُ مبتدا ، لَعِبَتْ فعل میں ھِیَ اور لَعِبَ میں ھُوَ ضمیر مستتر، فاعل فعل و فاعل مل کر خبر ، مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا باقی  مثالوں کی بھی یہی صورت ہے۔

 فاعل کا فعل پر اثر:

۱۔ جب فاعل مونث ہو تو فعل یا شبہ فعل مونث ہوتے ہیں اور جب فاعل مذکر ہو تو مذکر ہوتے ہیں مگر درج زیل صورتوں میں فاعل مونث ہو تو فعل کا مونث لانا واجب ہے جب فاعل موئنث حقیقی ہو اور فعل و فاعل کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو جیسے لَعِبَتْ فَاطِمَةُ ۔ حَازَتْ لَيْلَى جَائِزَةً ( لیلی نے انعام پایا)

۲۔جب فاعل ضمیر ہو اور اس کا مرجع مونث حقیقی یا غیر حقیقی ہو ۔جیسے الشَّمْسُ طَلَعَتْ

 فعل کی تذکیر و تانیث

وہ مقامات جہاں فعل کی تذکیر و تانیث جائز ہے درج ذیل ہیں:

۱۔جب فاعل مونث حقیقی ہو اور فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ آجائے جیسے ۔ حَضَرَتِ الْيَوْمَ فَاطِمَةُ ،یہاں حَضَرَ پڑھنا بھی جائز ہے۔

۲۔فاعل مونث غیر حقیقی ہو اور اسم ظاہر ہو جیسے ۔ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، یہاں پر طَلَعَ پڑھنا بھی جائز ہے۔

۳۔فاعل جمع مکسر ہو ،خواہ مذکر عاقل کی ہو یا غیر عاقل کی جیسے جَاءَتِ الرِّجَالُ ، ذَهَبَتِ الْاَيَّامُ ،یہاں جَآءَاور ذَھَبَ پڑھنا جائز ہے ۔

نوٹ  :۱۔جب فاعل ضمیر ہو اور اس کا مرجع غیر عقل کی جمع مکسر ہو تو فعل واحد مونث اور جمع مونث ذکر کرنا جائز ہے جیسے اَلْاَيَّامُ ذَهَبَتْ  یا ذَهَبْنَ ،مگر جب ضمیر کا مرجع مذکر عاقل کی جمع مکسر ہو تو فعل جمع مذکر بھی آسکتا ہے  ،جیسے الرِّجَالُ ذَهَبُوا

۲۔ترکیب کلام میں پہلے فعل پھر فاعل اس کے بعد مفعول ذکر کیا جاتا ہے جیسے قَذَفَ اللَّاعِبُ الْكُرَةَ (کھلاڑی نے گیند پھینکا )مگر کبھی مفعول فاعل سے بھی پہلے آجاتا ہے اور کبھی مفعول فعل سے پہلے آ جاتا ہے جیسے اَكَلَ خُبْزًا زَيْدٌ مگر فاعل کو فعل سے پہلے ذکر کرنا جائز نہیں ہے ۔

فاعل کی تقدیم

درزیل صورتوں میں فاعل کو مفعول سے پہلے ذکر کرنا واجب ہے :

۱۔جب فاعل اور مفعول دونوں اسم مقصور ہوں اور التباس کا اندیشہ ہو ۔جیسے ضَرَبَ مُوْسٰى عِيْسٰى اور التباس کا اندیشہ نہ ہو تو مفعول کی تقدیم جائز ہے جیسے اَكَلَ الْكُمَّثْرٰى يَحْيٰى (یحی نے امرود کھایا )

۲۔ جب فاعل ضمیر مرفوع متصل ہو  جیسے حَفِظْتُ دَرْسِي

جب مفعول الاکے بعد واقع ہو جیسے مَا حَفِظَ التِّلْمِيذُ اِلَّا دَرْسًا

فعل اور فاعل کا حذف

۱۔ جب قرنیہ پایا جائے تو فعل کا حذف کرنا جائز ہے جیسے کوئی سوال کرے  مَنْ جَلَسَ؟تو جواب میں صرف مُعَلِّمٌ کہہ دیا جائے تو صحیح ہے اس سے پہلے جَلَسَ فعل محذوف ہے ۔

۲۔ اگر فاعل کسی ایسے حرف شرط کے بعد آجائے جو صرف افعال پر داخل ہوتا ہے جیسے اِنْ، لَوْ، لَوْلَا، هَلَّا وغیرہ تو فعل خذف کرنا واجب ہے جیسے وَاِنْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ ، اَحَدٌ سے پہلے اسْتَجَارَكَ فعل محذوف ہے۔

۳۔  جب سوال کا جواب نَعَمْ یا بَلٰى سے دیا جائے تو فعل فاعل اور مفعول یہ تینوں حذف ہوتے ہیں جیسے اَحَفِظْتَ دَرْسًا؟ اس کے جواب میں نَعَمْ یا  بَلٰى کہہ دیا جائے ۔اس میں فعل فاعل اور مفعول تینوں حذف ہیں ۔

نائب فاعل

وہ اسم مرفوع ہے جسے فاعل کی جگہ رکھا جائے اور فعل مجہول کو اس کی طرف منسوب کیا جائے جیسے  شُرِبَ مَاءٌ ، شُرِبَ فعل مجہول اور مَاءٌ نائب فاعل ہے اس کو مَفْعُولٌ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهٗ بھی کہتے ہیں، جیسے ایسے فعل کا مفعول جس کا فاعل معلوم نہ ہو

یہ تمام احکام میں  مثل فاعل کے ہے یعنی اگر نائب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل ہمیشہ واحد ہوگا اورتذکیر و تانیث  میں نائب فاعل کے مطابق ہوگا اور اگر اسم ضمیر ہو تو فعل واحد تثنیہ جمع و تذکیر  و تانیث میں ضمیر کے مرجع کے مطابق ہوگا جیسے الرِّجَالُ اُخِذُوا (مرد پکڑے گئے)

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive