Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

7/13/26

Accepting Guest Posts on Our High-Traffic Website | Boost Your SEO with Do-Follow Backlinks

🚀 Accepting Guest Posts on High-Traffic Website! 🚀 Looking to boost your website’s SEO, rankings, and drive organic traffic?

We are now accepting premium guest posts on our high-traffic platform!

 📊 Website Stats: Daily Traffic: 2,500+ Unique Visitors

 Monthly Traffic: 75,000+ Organic Visitors

Niche: General

Link Type: 100% Do-Follow & Permanent

Link Indexing: Google Fast Indexing Guaranteed! 🎯

Why Choose Us?

High-quality content placement, no spammy links, and a clean link profile to give your site the ultimate SEO boost.

📩 Limited Slots Available! PM/Inbox me now with your article or pitch to get the best discounted rates!

Sohailarif89@gmail.com

 

Share:

منصوبات کا بیان | Mansubaat ka bayan | Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد

منصوبات کا بیان

وہ اسماء ہیں جنہیں فعل نصب دیتا ہے یہ تعداد میں آٹھ ہیں:

 1-5۔مفاعیل خمسہ (پانچوں مفعول )  6۔حال 7۔تمیز 8۔مستثنی

مفاعیل خمسہ:  اسم کے منصوب ہونے کی پہلی پانچ صورتیں ۔

منصوبات جمع ہے منصوب کی منصوب اس اسم کو کہتے ہیں جس پر نصب ہو اور اس سے مراد وہ اسماء ہیں جن کو فعل بطور مفعول نصب دیتا ہے جیسے حَفِظْتُ الدَّرْسَ اور یہ پانچ ہیں:

1۔ مفعول بہ       2۔مفعول مطلق    3۔مفعول فیہ       4۔مفعول لہ        5۔مفعول معہ

مفعول بہ

 وہ اسم منصوب ہے جس پر فاعل اپنا فعل واقع کرے اور فعل متعدی اسے نصب دے جیسے شد التلمیذ الحبل  طالب علم نے رسی باندھی  یہ کبھی فعل سے اور کبھی فاعل سے پہلے آ جاتا ہے جیسے اَلدَّرْسَ حَفِظْتُ، قَطَعَ الْحَبْلَ الْوَلَدُ۔  ان مثالوں میں الْحَبْلَ اور اَلدَّرْسَ مفعول بہ ہیں جو فعل اور فاعل سے پہلے آئے ہیں ۔

مفعول بہ اگرچہ فاعل کے بعد آتا ہے مگر درج ذیل صورتوں میں اسے فاعل سے مقدم کرنا ضروری ہے۔

1۔جب فاعل کے ساتھ ایسی ضمیر متصل ہو جو مفعول بہ کی طرف لوٹے جیسے اکرم الاستاذ تلمیذہ استاد کی اس کے شاگرد نے عزت کی

 2۔ جب مفعول بہ ضمیر منسوب متصل ہو جیسے اَکْرَمَنِیَ الْاَمِیْرُ( امیر نے میری عزت کی)

2۔مفعول بہ ایسا کلمہ ہو جس کا ابتدائے کلام میں آنا ضروری ہو جیسے مَنْ اَخَذْتَ (تو نے کس کو پکڑا )کَمْ کِتَابًا قَرَأْتَ ( تو نے کتنی کتابیں پڑھیں )ان مثالوں میں مَنْ اور کَمْ کِتَابًا مفعول بہ ہیں ۔

مفعول بہ کے فعل کا حذف

جب قرینہ پایا جائے تو مفعول بہ سے پہلے اس کے فعل کا حذف کرنا واجب ہے اور یہ تین صورتیں ہیں:

1۔ ندا    2۔اغرا و تحذیر      3۔اشتغال

 

Share:

7/6/26

Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد | جملہ فعلیہ | فاعل | نائب الفاعل

جملہ فعلیہ

جملہ فعلیہ وہ جملہ ہے جو فعل اور فاعل سے مل کر بنتا ہے ۔فعل کو مسند اور فاعل کو مسند الیہ کہتے ہیں جیسے:   لَمَعَ الْبَرْقُ (بجلی چمکی)۔ یَسْقُطُ الثَّلْجُ( برف گرتی ہے ہر فعل خواہ لازم ہو یا متعدی  اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے اور اگر متعدی ہو تو فاعل کے علاوہ مفعول بہ کو نصب بھی دیتا ہے۔

فاعل کے احکام:

 فاعل وہ اسم مرفوع ہے جس سے پہلے کوئی فعل یا شبہ فعل (اسم فاعل اسم مفعول اسم تفضیل صفت مشبہ اور مصدر )میں سے کوئی آ جائے اور اسے رفع(پیش) دے اور اس فعل یا شبہ فعل کا قیام اس سے ہو۔  جیسے وَقَفَ الثَّوْرُ (بیل کھڑا ہوا )شبہ فعل کی مثال الرَّجُلُ قَائِمٌ اِبْنُہٗ ان مثالوں میں الثَّوْرُ اور اِبْنُہ فاعل ہیں۔

فاعل کے اقسام:  اس کی دو قسمیں ہیں: اسم ظاہر اور اسم ضمیر

اسم ظاہر :اس سے مراد یہ ہے کہ فعل یا شبہ فعل کے بعد فاعل اسم ظاہر ہو ضمیر نہ ہو جیسے طَارَ الْعُصْفُوْرُ ۔اَکَلَ التِّلْمِیْذُ خُبْزًا

۱۔جب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل یا شبہ فعل ہمیشہ واحد ہوں گے اور تذکیر و تانیث میں فاعل کے مطابق ہوں گے اگر فاعل مذکر ہو تو فعل مذکر ہوگا اگر فاعل مونث ہو تو فعل مونث ہوگا جیسے قَذَفَ الطِّفْلُ الْكُرَةَ (بچے نے گیند پھینکی ) لَعِبَتْ فَاطِمَةُ (فاطمہ کھیلی )

لَعِبَ الطِّفْلُ                          لَعِبَ الطِّفْلَانِ              لَعِبَ الْاَطْفَالُ

لَعِبَتِ الْبِنْتُ                  لَعِبَتِ الْبِنْتَانِ          لَعِبَتِ الْبَنَاتُ

اسم ضمیر :اس سے مراد یہ ہے کہ فاعل اسم ظاہر نہ ہو بلکہ ضمیر مرفوع متصل ہو خواہ ’’ بَارِزٌ‘‘ یعنی ظاہر ہو یا’’ مُسْتَتِرٌ ‘‘یعنی پوشیدہ ہو تو فعل یا شبہ فعل واحد تثنیہ جمع و تذکیر و تانیث میں ضمیر کے مرجع کے مطابق ہوگا  جیسے فَاطِمَةُ لَعِبَتْ اس مثال میں ھِیَ ضمیر فاعل ہے۔

الطِّفْلُ لَعِبَ                          الطِّفْلَانِ لَعِبَا                 الْاَطْفَالُ لَعِبُوا

الْبِنْتُ لَعِبَتْ                  الْبِنْتَانِ لَعِبَتَا             الْبَنَاتُ لَعِبْنَ

ان مثالوں میں الطِّفْلُ اور الْبِنْتُ مبتدا ، لَعِبَتْ فعل میں ھِیَ اور لَعِبَ میں ھُوَ ضمیر مستتر، فاعل فعل و فاعل مل کر خبر ، مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا باقی  مثالوں کی بھی یہی صورت ہے۔

 فاعل کا فعل پر اثر:

۱۔ جب فاعل مونث ہو تو فعل یا شبہ فعل مونث ہوتے ہیں اور جب فاعل مذکر ہو تو مذکر ہوتے ہیں مگر درج زیل صورتوں میں فاعل مونث ہو تو فعل کا مونث لانا واجب ہے جب فاعل موئنث حقیقی ہو اور فعل و فاعل کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو جیسے لَعِبَتْ فَاطِمَةُ ۔ حَازَتْ لَيْلَى جَائِزَةً ( لیلی نے انعام پایا)

۲۔جب فاعل ضمیر ہو اور اس کا مرجع مونث حقیقی یا غیر حقیقی ہو ۔جیسے الشَّمْسُ طَلَعَتْ

 فعل کی تذکیر و تانیث

وہ مقامات جہاں فعل کی تذکیر و تانیث جائز ہے درج ذیل ہیں:

۱۔جب فاعل مونث حقیقی ہو اور فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ آجائے جیسے ۔ حَضَرَتِ الْيَوْمَ فَاطِمَةُ ،یہاں حَضَرَ پڑھنا بھی جائز ہے۔

۲۔فاعل مونث غیر حقیقی ہو اور اسم ظاہر ہو جیسے ۔ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، یہاں پر طَلَعَ پڑھنا بھی جائز ہے۔

۳۔فاعل جمع مکسر ہو ،خواہ مذکر عاقل کی ہو یا غیر عاقل کی جیسے جَاءَتِ الرِّجَالُ ، ذَهَبَتِ الْاَيَّامُ ،یہاں جَآءَاور ذَھَبَ پڑھنا جائز ہے ۔

نوٹ  :۱۔جب فاعل ضمیر ہو اور اس کا مرجع غیر عقل کی جمع مکسر ہو تو فعل واحد مونث اور جمع مونث ذکر کرنا جائز ہے جیسے اَلْاَيَّامُ ذَهَبَتْ  یا ذَهَبْنَ ،مگر جب ضمیر کا مرجع مذکر عاقل کی جمع مکسر ہو تو فعل جمع مذکر بھی آسکتا ہے  ،جیسے الرِّجَالُ ذَهَبُوا

۲۔ترکیب کلام میں پہلے فعل پھر فاعل اس کے بعد مفعول ذکر کیا جاتا ہے جیسے قَذَفَ اللَّاعِبُ الْكُرَةَ (کھلاڑی نے گیند پھینکا )مگر کبھی مفعول فاعل سے بھی پہلے آجاتا ہے اور کبھی مفعول فعل سے پہلے آ جاتا ہے جیسے اَكَلَ خُبْزًا زَيْدٌ مگر فاعل کو فعل سے پہلے ذکر کرنا جائز نہیں ہے ۔

فاعل کی تقدیم

درزیل صورتوں میں فاعل کو مفعول سے پہلے ذکر کرنا واجب ہے :

۱۔جب فاعل اور مفعول دونوں اسم مقصور ہوں اور التباس کا اندیشہ ہو ۔جیسے ضَرَبَ مُوْسٰى عِيْسٰى اور التباس کا اندیشہ نہ ہو تو مفعول کی تقدیم جائز ہے جیسے اَكَلَ الْكُمَّثْرٰى يَحْيٰى (یحی نے امرود کھایا )

۲۔ جب فاعل ضمیر مرفوع متصل ہو  جیسے حَفِظْتُ دَرْسِي

جب مفعول الاکے بعد واقع ہو جیسے مَا حَفِظَ التِّلْمِيذُ اِلَّا دَرْسًا

فعل اور فاعل کا حذف

۱۔ جب قرنیہ پایا جائے تو فعل کا حذف کرنا جائز ہے جیسے کوئی سوال کرے  مَنْ جَلَسَ؟تو جواب میں صرف مُعَلِّمٌ کہہ دیا جائے تو صحیح ہے اس سے پہلے جَلَسَ فعل محذوف ہے ۔

۲۔ اگر فاعل کسی ایسے حرف شرط کے بعد آجائے جو صرف افعال پر داخل ہوتا ہے جیسے اِنْ، لَوْ، لَوْلَا، هَلَّا وغیرہ تو فعل خذف کرنا واجب ہے جیسے وَاِنْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ ، اَحَدٌ سے پہلے اسْتَجَارَكَ فعل محذوف ہے۔

۳۔  جب سوال کا جواب نَعَمْ یا بَلٰى سے دیا جائے تو فعل فاعل اور مفعول یہ تینوں حذف ہوتے ہیں جیسے اَحَفِظْتَ دَرْسًا؟ اس کے جواب میں نَعَمْ یا  بَلٰى کہہ دیا جائے ۔اس میں فعل فاعل اور مفعول تینوں حذف ہیں ۔

نائب فاعل

وہ اسم مرفوع ہے جسے فاعل کی جگہ رکھا جائے اور فعل مجہول کو اس کی طرف منسوب کیا جائے جیسے  شُرِبَ مَاءٌ ، شُرِبَ فعل مجہول اور مَاءٌ نائب فاعل ہے اس کو مَفْعُولٌ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهٗ بھی کہتے ہیں، جیسے ایسے فعل کا مفعول جس کا فاعل معلوم نہ ہو

یہ تمام احکام میں  مثل فاعل کے ہے یعنی اگر نائب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل ہمیشہ واحد ہوگا اورتذکیر و تانیث  میں نائب فاعل کے مطابق ہوگا اور اگر اسم ضمیر ہو تو فعل واحد تثنیہ جمع و تذکیر  و تانیث میں ضمیر کے مرجع کے مطابق ہوگا جیسے الرِّجَالُ اُخِذُوا (مرد پکڑے گئے)

 

Share:

4/23/26

سگ داتا پیا ہوں میں یہ میرا پیر خانہ ہے | Sag e Data Piya Hon lyrics


 

سگ داتا پیا ہوں میں یہ میرا پیر خانہ ہے

میری نسبت ذرا دیکھو میری نسبت شہانہ ہے

 

میں منگتا ہوں جو داتا کا یہ میری خوش نصیبی ہے

میں نے تو دیں دھرم سب کچھ فقط داتا کو جانا ہے

 

سخی ہیں اور بھی لیکن نہ آپ کے جیسا کوئی ہے

سخاوت آپ کے گھر کی ہے سخی کا آستانہ ہے

 

لٹاتے ہیں جہاں میں وہ یہ صدقہ کملی والے کا

کوئی بھی در پہ آ جائے نہیں کہتے بیگانہ ہے

 

میرا تو قبلہ کعبہ ہے در داتا پیا ساحل

جھکا لے تو جبیں اپنی اگر جنت کو جانا ہے

Share:

4/10/26

چنگیاں چنگیاں نال ساڈا پیار اے | changian changian naal laa lo yarian lyrics


 

چنگیاں چنگیاں نال ساڈا پیار اے

اللہ دی سونہ ساڈا بیڑا پار اے

 

عقل دے بیڑے چڑھیں نا بیلیا

 عقل بیڑا ڈوب دی وچکار اے

 

 عاشقاں نوں وچ چھلاں دے رولیا

 واہ اوہ عشقا تیری کیسی کار اے

 

عیب ڈھک لئیں تو نیازی دے شاہا

 آل تیری دا اے خدمت گار اے

 

 

چنگیاں چنگیاں نال لا لو یاریاں

 مشکلاں آسان ہوسن ساریاں

 

 چنگیاں وچ صفتاں نظر دو اوندیاں

 عادتاں چنگیاں تے شکلاں پیاریاں

 

 کر محبت اللہ دے دلدار نال

 رب کرے گا تیریاں دلداریاں

Share:

ان کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں | Salam Hazrat Hamza bin Abdul Muttalib


 

فوجِ اعدا میں گُھس کر سناں بازیاں

 دُور ہی سے کبھی تیر اندازیاں

 پرچمِ افتخارِ صفِ غازیاں

اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں

 شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام

تضمین از مولانا اختؔرالحامدی

 

 

یہ تمنا یہ جذبہ یہ قربانیاں

 اور یہ ذوقِ شہادت کی بے چینیاں

 کافروں کی یہ میداں میں حیرانیاں

اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں

شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام

 تضمین از ڈاکٹر سید ہلاؔل جعفری

 

 جاں نثارانِ مولا کی جانبازیاں

 اہلِ بطحا و طیبہ کی جانبازایاں

 حق پسند اہلِ تقوٰی کی جانبازیاں

اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں

شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام

تضمین از حافظ عبدالغفّار حافؔظ

 

ابنِ اسود پہ وہ تیر اندازیاں

گاہے عتبہ پہ انکی سناں بازیاں

مرحبا مرحبا وہ سرافرازیاں

اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں

شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام

 تضمین از صاحبزادہ ابوالحسن واحؔد رضوی

 

سرگروہِ شہیدانِ حق بے گماں

 وہ فلک مرتبت وہ سپہر آستاں

 شیرِ حق اور شیرِ شہِ انس و جاں

’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں

 شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘

تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری

 

شیرِ حق دین کا ضیغمِ سخت جاں

 عظمتِ شاہِ کونین کا پاسباں

 دشمنانِ نبی کا مٹایا نشاں

اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں

شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام

تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری

 

 وہ رضاعی اخِ شاہِ کون ومکاں

 وہ شجاعت کا لاریب کوہِ گراں

 وہ شہامت کا ہر رَن میں اونچا نشاں

اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں

 شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام

تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری

 

Share:

4/9/26

sarkar ki nazron men aisa rutba hai ameer Hamza kaمنقبت امیر حمزہؓ | شانِ سید الشہداء حضرت حمزہؓ اور عشقِ رسول ﷺ کا ایمان افروز کلام


 

سرکار کی نظر وں میں ایسا رتبہ ہے امیر حمزہ کا

دنیا تو کیا ہے جنت میں شہرہ ہے امیر حمزہ کا


ہیں عم نبی بھی بھائی بھی یہ خاص فضیلت ہے ان کی

سرکار دوعالم سے دوہرا رشتہ ہے امیر حمزہ کا


یہ ان کے کرم کی باتیں  ہیں یہ خاص عنایت ہے ان کی

جو کچھ ہے میرے دامن میں صدقہ ہے امیر حمزہ کا


سب اہل محبت کہتے ہیں طیبہ میں تربت ہے ان کی

مجھ کو تو لگا کہ سارا ہی طیبہ ہے امیر حمزہ کا


ہر نعمت ان کی چوکھٹ پر جنت سے اتری لگتی ہے

صد شکر کہ میں نے بھی دیکھا  سفرہ ہے امیر حمزہ کا

 

سرکار دو عالم کو پیارا ہے نام امیر حمزہ کا

ناموس نبی پر کٹ جانا پیغام امیر حمزہ کا


کیا بات امیر حمزہ کی کیا نام امیر حمزہ کا


کوثر کے والی کا صدقہ دو جام ملیں گے اجمل کو

 ایک جام نجف کے والی سے ایک جام امیرِ حمزہ کا

Share:

عید کی تقریر | عید الفطر کا خطبہ | عید کا خطبہ 2026 | محمد سہیل عارف معینی

اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآء تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَةً مِّنْکَ ج وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۔

ترجمہ: عیسیٰ بن مریم نے عرض کی: اے اللہ ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے لئے اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے لئے عید اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

3. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: فَإِذَاکَانَ یَوْمُ عِیْدِهِمْ یَعْنِي یَوْمَ فِطْرِهِمْ بَاهٰی بِهِمْ مَـلَائِکَتَهٗ فَقَالَ: یَا مَـلَائِکَتِيْ، مَا جَزَاء أَجِیْرٍ وَفّٰی عَمَلَهٗ، قَالُوْا: رَبَّنَا، جَزَائُهٗ أَنْ یُوَفّٰی أَجْرُهٗ. قَالَ: مَـلَائِکَتِيْ، عَبِیْدِيْ وَإِمَائِيْ قَضَوْا فَرِیْضَتِي عَلَیْهِمْ ثُمَّ خَرَجُوْا یَعُجُّوْنَ إِلَيَّ بِالدُّعَائِ وَعِزَّتِي وَجَـلَالِي وَکَرَمِي وَعُلُوِّي وَارْتِفَاعِ مَکَانِي لَأُجِیْبَنَّهُمْ فَیَقُوْلُ: ارْجِعُوْا قَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ وَبَدَّلْتُ سَیِّاٰتِکُمْ حَسَنَاتٍ قَالَ: فَیَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَّهُمْ. رَوَاهُ الْبَیْهَقِيُّ.

میری عزت کی قسم !جب تک تم میرا خیال رکھوگے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا (اور اُن کو چھپاتا رہوں گا)، میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں (اور کافروں) کے سامنے ذلیل اور رُسوا نہیں کروں گا ۔ بس! اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ ! تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔

يَا عِبَادِي، سَلُونِي، فَوَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا فِي جَمْعِكُمْ لِآخِرَتِكُمْ إِلَّا أَعْطَيْتُكُمْ، وَلَا لِدُنْيَاكُمْ إِلَّا نَظَرْتُ لَكُمْ، فَوَعِزَّتِي لَأَسْتُرَنَّ عَلَيْكُمْ عَثَرَاتِكُمْ مَا رَاقَبْتُمُونِي، فَوَعِزَّتِي لَا أُخْزِيكُمْ وَلَا أَفْضَحُكُمْ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِ الْحُدُودِ۔( رواه البيهقي في شعب الإيمان"الحديث رقم 3421)

 

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ (21) فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ (22) قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ(23) كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ ( سورہ الحاقہ)

ترجمہ: تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔ بلند باغ میں ۔ اس کے پھل قریب ہوں گے۔ (کہا جائے گا:) گزرے ہوئے دنوں میں جو تم نے آگے بھیجا اس کے بدلے میں خوشگواری کے ساتھ کھاؤ اور پیو۔

 

جرم عصیاں سے رہا ہونے کا چارہ مانگو مانگنے والو محمد کا سہارا مانگو

روز محشر سے نہ گھبراؤ تڑپنے والو میری سرکار کی رحمت کا اشارا مانگو

ساقیٔ طیبہ کا ہر جام صدا دیتا ہے جینا چاہو تو مدینے کا نظارا مانگو

اور مانگو نہ ظہوریؔ بس اس کے سوا اپنے اللہ سے اللہ کا پیارا مانگو

 

بخدا اس طرح مانگو جیسے

جناب ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے اسماعیل علیہ السلام کو مانگا۔۔۔جیسے زکریا علیہ السلام نے یحی علیہ السلام کو مانگا ۔۔۔ایسے مانگو جیسے جیسے نوح علیہ السلام نےطوفاں میں اللہ سے نجات طلب کی ، جیسے لوط علیہ السلام نے اپنی قوم سے پناہ مانگی ، جیسے موس علیہ السلام ی نے سمندر میں رستہ مانگا ، جیسے یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں نجات مانگی ، جیسے جناب مریم علیہا السلام نے سکون مانگا، جیسے ایوب علیہ السلام نے بیماری سے نجات طلب کی، بخدا  ، نوح علیہ السلام کو طوفاں سے نجات ملی ، لوط علیہ السلام کو قوم سے نجات ملی ، موسی علیہ السلام کو سمندر میں رستہ ملا، یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی ، مریم علیہا السلام کوسکون ملا ، زکریا علیہ السلام کو یحی علیہ السلام ملے ، ابراہیم علیہ السلام کو اسماعیل علیہ السلام ملے، جناب ایوب علیہ السلام کو سب کچھ ملا بلکہ اللہ نے فرماما فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا یعنی جتنا اس کا تھا وہ بھی دیا اور اس کی مثل اور بھی دیا ۔۔ تو آؤ آج اپنے رب سے مانگیں کتنا مانگیں کیا کیا مانگیں ساری حدیں توڑیں اور اللہ سے مانگیں جتنا وہ کریم ہے ، جتنا رزاق ہے جتنا وہ عظیم ہے ۔۔۔۔۔

                

 

میں نہیں کہتا مجھے کم یا زیادہ دے دے

جتنا اچھا لگے تجھ کو مجھے اتنا دے دے

اے کریم آل کا تیری مجھے صدقہ دے دے

میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعت صحرا دے دے

کہ تیرے بس میں قطرے کو بھی دریا دینا

 

سارے عالم کو ملا فیض جو تیرے گھر سے

یہ ہے وہ ابر کرم سب پہ برابر برسے

کیوں گدا تیرا کسی چیز کی خاطر ترسے

تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے

کہ تیری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا

 

مجھ پہ بھی چشم کرم اے میرے آقا کرنا

حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا


Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive