Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

2/15/26

Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد | فعل کی اقسام | لازم متعدی | معروف مجہول

فعل کی اقسام

 فعل کی تقسیم کئی اعتبار سے کی جاتی ہے:

۱۔ زمانے کے اعتبار سے

۲۔  مفعول کی ضرورت کے اعتبار سے

۳۔ فاعل کے معلوم ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے

۱۔ زمانہ کے اعتبار سے فعل کی تین قسمیں ہیں

 ماضی           مضارع         امر

۲۔ فائل کے معلوم ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں:

 معروف         مجہول

۳۔ مفعول کی ضرورت کے اعتبار سے اس کی دو قسمیں ہیں:

 لازم             متعدی

 لازم:  لازم وہ فعل جو مفعول بہ کو نہ چاہے جیسے : جَلَسَ التِّلْمِیْذُ  (طالب علم بیٹھا) ثَارَ الْغُبَارُ (غبار اڑا)

متعدی:        وہ فعل ہے جو فاعل کے علاوہ مفعول بہ کو بھی چاہے : جیسے اَکَلَ  الثَّعْلَبُ دَجَاجَۃً( لومڑی نے مرغی کو کھایا)

 

 فعل متعدی کی اقسام : فعل متعدی کی تین قسمیں ہیں:

 متعدی بیک مفعول       متعدی بدو مفعول                 متعدی بسہ مفعول

۱۔ متعدی بیک مفعول:  وہ فعل متعدی ہے جو صرف ایک ہی  فعل کو نصب دے  جیسے:طَوٰی الْخَادِمُ الثَّوْبَ( خادم نے کپڑے کو لپیٹا)

۲۔ متعدی بدو مفعول:  وہ فعل متعدی جو دو مفعولوں کو نصب دے اس کی دو قسمیں ہیں:

 الف:  جو دو مفعولوں کو نصب دے اور ان کی اصل مبتدار خبر ہو جیسے:  عَلِمَ ظَنَّ وغیرہ

ب:  جو دو مفعولوں کو نصب دیتا ہے اور ان کی اصل مبتدا اور خبر نہ ہو ان دونوں میں سے ایک کا حذف کرنا بھی جائز ہے اور یہ بے شمار ہیں جن میں سے چند یہ ہیں: اَعْطٰی سَاَلَ کَسٰی سَلَبَ جیسے: اَعْطَیْتُ السَّائِلَ خُبْزاً(میں نے سائل کو روٹی دی)

۳۔ متعدی بسہ مفعول :وہ افعال ہیں جو تین مفعولوں کو نصب دیتے ہیں درج ذیل ہیں

اَعْلَمَ، أَرَى، أَنْبَأَ، أَخْبَرَ، خَبَّرَ، نَبَّأَ، حَدَّثَ، جیسے : أَعْلَمْتُ عَلِيًّا الْكِتَابَ مُفِيدًا، أَرَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنَ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ

 مذکورہ افعال میں سے ہر ایک فعل کی مزید دو دو قسمیں ہیں :۱۔معروف  ۲۔ مجہول

۱۔معروف وہ فعل ہے جس کی نسبت فاعل کی طرف کی جائے اور اس کا فاعل معلوم ہو جیسے بَلَّلَ الْمَطَرُ الْأَرْضَ بارش نے زمین کو ترک کر دیا ۔ ثَارَ الْغُبَارُ (غبار اڑا)

۲۔مجہول وہ فعل ہے جس کی فاعل کو حذف کر کے اس کی نسبت مفعول کی طرف کی جائے جیسے :شُرِبَ الْمَاءُ(پانی پیا گیا)

 

فعل مجہول فعل لازم سے نہیں بنتا بلکہ صرف فعل متعدی سے بنتا ہے کیونکہ اس میں فعل کی نسبت مفعول بہ کی طرف ہوتی ہے اور فعل لازم کا مفعول بہ نہیں ہوتا

فعل کا عمل :

ہر فعل خواہ وہ لازم ہو یا متعدی اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے جیسے: هَبَّتِ الرِّيحُ ، طَوَى الْخَادِمُ الثَّوْبَ ان میں سے الرِّيحُ ، الْخَادِمُ فاعل ہیں جن کو فعل نے رفع دیا ہے۔

 

 نیز ہر فعل سات اسماء کو نصب دیتا ہے

۱۔مفعول مطلق   ۲۔مفعول فیہ     ۳۔مفعول لہ     ۴۔مفعول معہ   ۵۔ حال         ۶۔تمیز ۷۔ مستثنی

 فعل متعدی مذکورہ بالا منصوبات کے علاوہ مفعول بہ کو بھی نصب دیتا ہے

مشقیات

فعل متعدی کی کتنی اقسام ہیں؟

 فعل کیا عمل کرتا ہے ؟

کیا فعل لازم مفعول بہ کو نصب دیتا ہے؟

 درجزیل عبارات میں سے فعل لازم اور متعدی الگ الگ کریں:

حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ

أَخَذَ التِّلْمِيذُ الْجَائِزَةَ

شَبِعَ الطِّفْلُ

نَهَضَ الْمُصَلِّي مِنَ السَّجْدَةِ

 طَلَعَتِ الشَّمْسُ

قَصَدَ الطِّفْلُ أُمَّهُ

 خَمَدَتِ النَّارُ

أَنْبَأَنِي الرَّسُولُ الْأَمِيرَ قَادِمًا

 يَسْقِي الطَّبِيبُ الْمَرِيضَ دَوَاءً

 

  • types of verb in arabic grammar

  • fiil ki aqsam

  • arabic verb types

  • fiil lazim aur mutaaddi

  • fiil maroof aur majhool

  • fiil past present imperative

  • arabic grammar for beginners

  • sarf o nahw arabic

  • arabic grammar in urdu

  • fiil mutaaddi examples

  • fiil lazim examples

  • arabic verbs explained

  • arabic grammar lesson

  • madarsa arabic grammar

  • dars e arabic fiil

Share:

ہم AI کی لکھی تحریر کو فوراً کیوں پہچان لیتے ہیں؟ Why we think it's Al?

ہم AI کی لکھی تحریر کو فوراً کیوں پہچان لیتے ہیں؟ Why we think it's Al?

 مصنوعی ذہانت (AI) نے تحریر کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آج بلاگز، ویب سائٹس، سوشل میڈیا پوسٹس اور حتیٰ کہ تعلیمی مواد بھی AI کے ذریعے لکھا جا رہا ہے۔ مگر اس کے باوجود ایک سوال آج بھی موجود ہے:

 ہم AI کی لکھی تحریر کو فوراً کیوں پہچان لیتے ہیں؟

 اس بلاگ میں ہم ان بنیادی وجوہات کا جائزہ لیں گے جو AI تحریر کو انسانی تحریر سے الگ کرتی ہیں۔

تکنیکی اصطلاحات کا غیر ضروری استعمال(Technical Jargon)

 AI عموماً تحریر کو زیادہ معلوماتی بنانے کے لیے مشکل اور تکنیکی الفاظ استعمال کرتا ہے۔ نتیجتاً تحریر عام قاری کے لیے بھاری اور غیر فطری محسوس ہوتی ہے، جبکہ انسانی تحریر سادگی اور مثالوں سے بھرپور ہوتی ہے۔

The sentence uses a complex sentence structure with multiple clauses, including a subordinate clause, to convey detailed information and nuanced arguments, using technical vocabularv.

مشینی شائستگی اور روبوٹک انداز(Robotic Formality)

AI کی زبان بہت زیادہ منظم، متوازن اور گرامر کے لحاظ سے مکمل ہوتی ہے، مگر اس میں انسانی جذبات، حیرت، درد یا خوشی کی جھلک کم ہوتی ہے۔ یہی چیز تحریر کو روبوٹک بنا دیتی ہے۔

The sentence's formal and elaborate sentence structure including the use of subordinate clauses, creates a sense of clarity and orderliness.

حد سے زیادہ رسمی لہجہ(Overly Formal)

بلاگنگ میں قاری سے مکالمہ ضروری ہوتا ہے، لیکن AI اکثر ہر موضوع کو ایک ہی رسمی اور سنجیدہ انداز میں بیان کرتا ہے، جس سے تحریر لیکچر نما بن جاتی ہے۔

The sentence's formal and elaborate sentence structure including the use of subordinate clauses, creates a sense of formality.

مصنوعی ربط اور فارمولائی تسلسل(Mechanical Transitions)

AI تحریر میں transitional words کا زیادہ استعمال ہوتا ہے، جس سے تحریر بہت ہموار مگر غیر انسانی لگتی ہے۔ انسان کی تحریر میں فطری وقفے اور اچانک خیالات شامل ہوتے ہیں۔

The sentence uses subordinate clauses and transitional phrases such aS L cy to connect ideas smoothly and create a sense of logical flow,

حد سے زیادہ درستگی اور جذبات کی کمی(Mechanical Precision)

 AI کی تحریر میں ہر لفظ نپا تلا ہوتا ہے، مگر اس میں ذاتی تجربہ، کہانی یا جذباتی لغزش نہیں ہوتی۔ انسانی تحریر کی خوبصورتی یہی خامیاں ہیں۔

The sentence uses technical vocabulary, such as 'a_ s st" and 'a5-al _Aes', to convey precise and specific information.

نتیجہ ہم AI کی تحریر کو اس لیے پہچان لیتے ہیں کیونکہ وہ:

جذبات سے خالی حد سے زیادہ رسمی تکنیکی اور مشینی طور پر مکمل ہوتی ہے

 جبکہ

 انسانی تحریر: فطری سادہ ذاتی اور جذباتی ہوتی ہے۔

اختتامی بات

 AI ایک طاقتور ٹول ہے، مگر تحریر میں روح صرف انسان ڈال سکتا ہے۔ بہترین نتائج کے لیے AI سے مدد لیں، مگر آخری لمس ہمیشہ انسان کا ہونا چاہیے۔

AI Content Humanize Checklist (For Bloggers)

سادہ الفاظ استعمال کریں

  ذاتی مثال یا تجربہ شامل کریں

  سوالات پوچھیں

  غیر رسمی جملے شامل کریں

  کامل گرامر سے نہ گھبرائیں

  قاری سے براہِ راست بات کریں

AI written content, Human vs AI writing, AI content detection, Urdu blogging, SEO Urdu blog, AI writing signs, content authenticity, AI vs human content

 

 


Share:

2/13/26

یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے | Yun Muhammad hen Zamanai men Lyrics


 

یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے

جیسے اک بولتا عنوان فسانے کے لیے

 

ہر خطا کار پہ رحمت کی نظر ہو جیسے

رات کے بعد زمانے میں سحر ہو جیسے

 

جس طرح گم کردہ منزل کو منزل کا سراغ

جس طرح تاریکیوں میں نورِ وحدت کا چراغ

زندگی جیسے ملے مردوں کو جینے کے لیے

جیسے طوفان میں ساحل ہو سفینے کے لیے

 

یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے

جیسے اک بولتا عنوان فسانے کے لیے

 

جرم کو دامنِ رحمت میں چھپانے کے لیے

ہر برے حال میں امت کو بچانے کے لیے

ہم بگڑنے کے لیے آپ بنانے کے لیے

 

ظالموں سے زیر دستوں کو چھڑایا آپ نے

آدمی سے آدمی کا حق دلایا آپ نے

دوستوں پر مہربانی ، دشمنوں پر شفقتیں

رحمت للعلمین بن کر دکھایا آپ نے

 

 

جاگتے رہتے تھے راتوں کو محمد معصوم

یوں انہیں دیکھ کر ہو جاتی تھی دائی مغموم

لوریاں گا کے مچا دیتی تھی گھر میں اک دھوم

ہائے یہ راز حلیمہ کو نہیں تھا معلوم

وہ نہیں سوتے جو آتے ہیں جگانے کے لیے

 

 

آپ سے پہلے زمانے کی عجب حالت تھی

آدمی، جہل مجسم تھا ، سراپہ وحشی

۳۶۰ خداوں سے بسی تھی بستی

شکر اللہ کا ایسے میں رسول عربی

آئے انسان کو انسان بنانے کے لیے

 

 

آدمی نے آدمی کے مرتبے کو پا لیا

آئینہ وہ آدمیت کو دکھایا آپ نے

آپ کے احسان اتنے جن کا گننا بھی محال

سچ یہ ہے کہ انسان کو انسان بنایا آپ نے

ایک ہی صف میں کھڑا کر کے گدا و شاہ کو

امتیازِ بندہ و آقا مٹایا آپ نے

 

بزم کونین سجانے کے لیے آپ آئے

شمع توحید جلانے کے لیے آپ آئے

 

Share:

2/10/26

دیا گیا ہے جو کردار وہ نبھانا ہے | Dia gia hai jo kirdar wo nibhana hai lyrics


 

دیا گیا ہے جو کردار وہ نبھانا ہے

یہ زندگی تو بہت مختصر فسانہ ہے

 

تو  آگیا تو مکمل ہوا  میرا ہونا

تیرا زمین پہ آنا تو اک بہانہ ہے

 

یہ لوگ کس لیے چمٹے ہوئے ہیں دنیا سے

پتہ بھی ہے کہ سبھی کو یہاں سے جانا ہے

 

تجھے تو تازہ لہو کی تلاش ہے شاید

اسے نہ چھیڑ کہ یہ زخم تو پرانا ہے

 

کوئی بھی انگلی اٹھانے تجھے نہیں دے گا

میاں یہ تیرا نہیں ہے میرا زمانہ ہے

 

کوئی چرا کے نہ لے جائے ڈر سا رہتا ہے

تو مشکلوں سے کمایا ہوا خزانہ ہے

 

میں جس مقام پہ ہوں مستقل نہیں مظہر

میری جگہ پہ کسی اور نے بھی آنا ہے

Share:

2/2/26

Guest Posting & Sponsored Content Opportunities Now Open! www.thenationalduty.com

🚀 Guest Posting & Sponsored Content Opportunities Now Open!

 

Looking to place high-quality sponsored content on a credible, content-driven platform?

thenationalduty.com is now open for guest posts and sponsored articles from agencies, brands, and professionals who value quality, credibility, and audience trust.

🔹 Our core content areas include:

• Public interest & policy

 • Religion, ethics & moral values

 • Social sciences & psychology

 • Peaceful coexistence & social harmony

 • Educational & awareness content

 • Everyday science for the general public

 • Civic responsibility & public welfare

 

Why publish with us?

 ️ Editorially reviewed content

 ️ Audience-focused, value-driven platform

 ️ Long-term visibility on a growing publication

 ️ Professional collaboration with clear guidelines

 

Some niches (e.g., gambling, casinos, CBD) are reviewed selectively and case-by-case to maintain editorial integrity.

 📩 Agencies and brands interested in serious, quality placements are welcome to reach out via DM or email.

Let’s collaborate responsibly:

Contact the Team TND:  sohailarif89@gmail.com

   #GuestBlogging  

#GuestPostOpportunities  

#SponsoredContent  

#ContentCollaboration  

#DigitalPR  

#EditorialIntegrity  

#ThoughtLeadership  

#QualityContent  

#PublicInterest  

#SocialSciences  

#EthicalMedia  

#TheNationalDuty


Share:

1/26/26

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی | Salam us par k jis nai lyrics


 

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی

سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

سلام اس پرکہ اسرارِ محبت جس نے سکھلائے

سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں

سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

سلام اس پر کہ دشمن کو حیاتِ جاوداں دے دی

سلام اس پر ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی

سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں

سلام اس پ ہوا مجروح جو بازارِ طائف میں

سلام اس پر وطن کے لوگ جس کو تنگ کرتے تھے

سلام اس پر کہ گھر والے بھی جس سے جنگ کرتے تھے

سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا

سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا

سلام اس پر جو سچائی کی خاطر دکھ اٹھاتا تھا

سلام اس پر جو بھوکا رہ کے اوروں کو کھلاتا تھا

سلام اس پر جو امت کے لیے راتوں کو روتا تھا

سلام اس پر جو فرشِ خاک پر جاڑے میں سوتا تھا

سلام اس پر جو دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہے

سلام اس پر کہ جس کی ذات فخرِ آدمیّت ہے

 سلام اس پر کہ جس نے جھولیاں بھردیں فقیروں کی

 سلام اس پر کہ مشکیں کھول دیں جس نے اسیروں کی

 سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہی دی

سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی

سلام اس پر کہ جس نے زندگی کا راز سمجھایا

سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا

سلام اس پر کہ جس کا نام لے کر اس کے شیدائی

 الٹ دیتے ہیں تختِ قیصریت اوجِ دارائی

 سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں

 بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں

 سلام اس ذات پر کہ جس کے یہ پریشاں حال دیوانے

 سنا سکتے ہیں اب بھی خالد و حیدر کے افسانے

 درود اس پر کہ جس کی بزم میں قسمت نہیں سوتی

 درود اس پر کہ جس کے ذکر سے سیری نہیں ہوتی

 درود اس پر کہ جس کے تذکرے ہیں پاک بازوں میں

 درود اس پر کہ جس کا نام لیتے ہیں نمازوں میں

 درود اس پر، جسے شمعِ شبستان ازل کہیے

 درود اس ذات پر فخرِ بنی آدم جسے کہیے

Share:

1/11/26

سیاسی آزادی اور سیاسی مساوات کے حوالے سے ابن رشد کے افکار

 

سیاسی آزادی اور سیاسی مساوات کے حوالے سے ابن رشد کے افکار

ابن رشد کے نزدیک سیاسی آزادی

                    ابن رشد نے ایک ایسے دور میں سیاسی آزادی کی فکر پیش کی جب ہر طرف سیاسی تسلط کا دور دورا تھا۔خود ابن رشد کو اپنی فلسفیانہ افکار کی وجہ سے صعوبتوں سے گزرتا پڑا اور جلا وطنی کی مصیبتیں جھیلنی پڑیں لیکن اسکے باوجود انہوں نے سیاسی آزادی کے نقطۂ نظر کو پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا۔اور جہاں اس کی فکری بنیادوں کو استوار کیا وہیں اپنی معاصر سیاسیات پر بھی نقد کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ کیسے بعض اوقات سیاسی آزادی محض ایک فریب ہوتی ہے اور حقیقی سیاسی آزادی کیسے اس سے مختلف ہوتی ہے۔اپنے دور کی سیاست پر انتقادی تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے:

جو دور حکومت ہماری سرزمین یعنی قرطبہ پر سن پانچ سو سال کے بعد قائم ہواوہ جمہوری طرزِ حکومت کے قریب قریب تھا۔ سن پانچ سو چالیس کے بعد یہ آمریت میں بدل گیا۔

          ابن رشد جب سیاسی آزادی کے بارے میں بات کرتےہیں  تو اس کے متوازی سماجی آزادی کی بات بھی کر رہے ہوتے ہیں ۔جب ابن رشد آمریت کے خلاف بات کرتے ہیں  تو اس سے طبعی طور پر سماجی آزادی کے در بھی وا ہوتے ہیں۔جب وہ بدترین حکومت میں جمہور کی آواز کو دبانے کے خلاف بات کرتے ہیں  تو اس وقت وہ سیاسی آزادی ہی کی بات کر رہے ہوتے ہیں ۔ابن رشد کے نزدیک آمریت واستبداد کے دور میں اہل علم وفضل ظلم کا شکار ہوتے ہیں:

’’ یہ بھی ظلم ہے کہ عادل ونیک اور تمام اہل فضل ودانش کو ان کے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔‘‘              

سیاسی مساوات

کسی بھی معاشرے میں سیاسی برابری اس بات کا تعین کرتی ہے کہ اس معاشرے میں سیاسی آزادی کس قدر ہے اور نظام حکومت بہتر ہے یا بدتر۔ابن رشدنے جہاں مدینہ فاضلہ یا اچھی حکومت کے اوصاف گنوائے اور اس کی فکری بنیادوں کو واضح کیا،وہیں اس ضمن میں یہ بھی بتایا کہ کوئی بھی مملکت اس وقت تک بہتر مملکت کہلانے کی حق دار نہیں جب تک اس کے شہریوں کو ہر ہر لحاظ سے سیاسی مساوات حاصل نہ ہو۔اگر کوئی مملکت ظلم وستم کرتی ہے اور اپنے شہریوں کو سیاسی مساوات نہیں دیتی یا دولت و جاگیر کی بنا پر یا صنف کی بنیاد پر سیاسی درجہ بندی کرتی ہے تو وہ مملکت واضح طور پر بدترین حکومت ہے۔ابن رشد نے مختلف مثالوں سے اس امر کو واضح کیا کہ جس مملکت میں جس قدر زیادہ یا کم سیاسی مساوات ہوگی،اس مملکت کے بہتر یا بدتر ہونے کی درجہ بندی اسی لحاظ سے کی جائے گی۔اسی ضمن میں ابن رشد نے عورت اور مرد کی سیاسی برابری کی بات کی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کی عدم موجودگی کی طرف بڑے درد دل کے ساتھ اشارہ کیا اور عورتوں کے پیچھے رہ جانے اور معاشرے میں فقر وافلاس کی افزودنی کا تجزیہ بھی پیش کیا:

ترجمہ:ہمارا موجودہ طرز حیات ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم عورتوں کی چھپی ہوئی صلاحتیوں کی طرف دیکھ سکیں۔وہ تو گویا صرف بچے جننے اور بچوں کو دودھ پلانے ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور ان کی یہ بے چارگی ان میں سے کسی بڑے کام کوسامنے لانے کی صلاحیت کو چھین لیتی ہے۔اور یہی وہ وجہ ہے کہ ہماری عورتوں میں سے کوئی بھی دنیاوی لحاظ سے بڑی عورت سامنے نہیں آتی۔مزید برآں یہ کہ ان کی زندگی درختوں کی زندگی کی طرح ہے۔وہ مردوں کی ذمے داری ہیں،اسی وجہ سے ہمارے علاقوں میں غربت بہت زیادہ ہے کیونکہ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں دو گنا ہے اور وہ اپنا قوت لایموت بھی نہیں کما سکتیں۔

 

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive