Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

11/1/26

سورۃ العصر اور خسارے سے بچنے کا راستہ: سابقہ اقوام کی ہلاکت کے اسباب اور ہمارا کردار

اصل خسارہ کیا ہے؟ کہیں ہمارے نیک اعمال بھی تو ضائع نہیں ہو رہے!

وَ الْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ (سورۃ العصر)

ترجمہ: زمانے کی قسم۔ بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔ مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔

امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر لوگ اس ایک سُورت (یعنی سورہ عَصْر) میں غور و فکر کریں تو انہیں یہی کافی ہے۔ آپ ہی کا ایک اور فرمان ہے کہ اگر اللہ پاک سورہ عَصْر کے عِلاوہ اور کوئی بھی دلیل نازِل نہ فرماتا ، تب بھی یہی نصیحت (دُنیا و آخرت کے لئے) کافِی ہو جاتی۔

اللہ تعالی نے زمانے کی قسم کھائی ہے: زمانے سے متعلق ارشاد فرمایا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَاِنَّ اللهَ هُوَ الدَّهْرُ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ ہی زمانہ (یعنی زمانے کا خالق) ہے۔(مسند الشهاب: 920)زمانے کو بر ابھلا نہیں کہنا چاہیے۔ انسان اور اس نے اپنے آپ کو بدلا ہے زمانہ ویسے کا ویسا ہی ہے جب سے معرض وجود میں آیا ہے۔ انسان نے اپنی عادات کو بدلا ہے معاشرہ خراب نہیں انسان خود خراب ہوا ہے ۔ انسان سارے کا سارا خسارے میں ہے سوائے  چار صفات کے ۔ ایمان ، اعمال صالحہ ، حق کی تلقین اور صبر کی تلقین۔  

          ایمان کے بغیر کوئی عمل اللہ کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں ہے ۔ اعمال صالحہ کے بغیر صرف ایمان کافی نہیں ہے کیوں کہ جماعت صحابہ کا ایمان سب سے مضبوط ترین ہے لیکن ایمان کے باوجود صحابہ کا نماز روزہ حج  زکوۃ اور دیگر نیک اعمال کی پابندی کرنا اس کا واضح ثبوت ہے کہ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ ضروری ہیں۔ حق کی تلقین اور صبر کی تلقین دو مختلف جہات اور پہلووں کی طرف اشارہ ہے ایک حق ہے یعنی طاقت اور استطاعت جب ہوتی ہے تو انسان راہ راست پر رہے اور حق پر قائم رہے اس لیے تلقین کرتے رہیں اور صبر سے مراد وہ حالات کہ جب پریشانیاں ہوں تکلیفیں ہوں اور مصیبتیں آن پڑی ہوں تو صبر کی تلقین خسارے سے نکلنے کے لیے ضروری ہے ورنہ انسان طاقت ہو تو بے راہ روی کا شکار ہو سکتا ہے اور تکلیف اور پریشانی کی حالت میں بے صبری اور مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے اس لیے خسارے سے نکلنے کے لیے حق کی تلقین اور سبر کی تلقین کرتے رہنا خسارے سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے۔

خسارے کا تعلق دو پہلووں سے ہے :

۱۔     ایک کفر اور دوسرا اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یعنی کفر کو خسارہ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (سورۃ الزمر: 63)

اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی نقصان میں ہیں۔

وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ ال عمران: 85)

اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اوردین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

ان آیات میں یہ واضح پیغام ہے کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی آیات کا انکار کیا اور کفر کیا ، اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کو پسند کیا تو وہ دائمی خسارے میں ہے ۔

۲۔     دوسرے پہلو میں خسارے کا تعلق اہل ایمان کے ساتھ بیان کیا ہے۔

اللہ تعالی کی رحمت اور مغفرت سے محرومی خسارہ ہے۔

قَالُوْا لَىٕنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ الاعراف: 149)

انہوں نے کہا اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور اور مغفرت نہ کرے تو ہم خسارہ والوں میں سے ہو جائیں۔

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ الاعراف:23)

دونوں نے عرض کی اے رب ہمارے ہم نے اپنا آپ بُرا کیا تو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے۔

فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ البقرۃ:64)

اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاتے۔

وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْٓ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ ھود:47)

اور اگر تو میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔

          ان درج بالا آیات میں واضح پیغام ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت اور مغفرت سے محرومی خسارہ کی علامت ہے یعنی جو بندہ اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم ہو گیا وہ خسارے میں ہو گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم کون لوگ ہوتے ہیں۔

رحمت سے محرومی

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ"(صحیح بخاری:6013)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ، لَا يَرْحَمْهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (صحیح مسلم: 6030)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،" يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا اَهْلَ الْاَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ (سنن بی داود:4941)

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ اِلَّا مِنْ شَقِيٍّ (جامع ترمذی:1923)

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”صرف بدبخت ہی (کے دل) سے رحم ختم کیا جاتا ہے“۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللهِ فَاِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ، وَاِنَّ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي (جامع ترمذی:2411)ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام سے پرہیز کرو اس لیے کہ ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام دل کو سخت بنا دیتا ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہو گا۔اللہ تعالی سے دوری سے مراد اس کی شفقت اور رحمت سے دوری ہے۔ یعنی جو سخت دل ہو گا وہ اللہ تعالی کی رحمت سے محروم ہو گا۔

مغفرت اور بخشش سے محرومی

قرآن مجید کی آیات جو انسان کو مغفرت اور بخشش کی طرف راہنمائی کرتی ہیں اور انسان کو خبر دیتی ہیں کہ کون اللہ تعالی کی طرف سے بخشش اور مغفرت سے محروم ہو سکتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا (سورة النساء:149)

اگر تم کوئی بھلائی اعلانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزر کرو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا قدرت والا ہے۔

وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورة التغابن:14)

ان سے احتیاط رکھواور اگر معاف کرو اور درگزرکرو اور بخش دو تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورة النور:22)

اور انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور دَرگزرکریں ، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش فرمادے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ان آیات میں اللہ تعالی نے واضح فرمایا کہ تم لوگوں کو معاف کرو اگر چاہتے ہو کہ اللہ تعالی تمہیں معاف کرے ۔ یعنی اگر لوگوں کو معاف نہ کیا تو اللہ تعالی بھی تمہیں نہیں بخشے گا ۔

آج ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرنا ہے اور اپنے اعمال اور کردار پر غور کرنا ہے کہ نماز ، روزہ ، حج اور صدقات و خیرات اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا عمل نہ کر رہے ہوں کہ جس سے ہمارے نیک اعمال ضائع ہو رہے ہوں۔ اصل خسارہ یہ نہیں کہ ہمارے اعمال کم ہیں بلکہ اصل خسارہ یہ ہے کہ ہمارے نیک اعمال ضائع ہو رہے ہیں اور ہمیں خبر ہی نہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مفلس کون ہے؟

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ، اَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ " قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهٗ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُفْلِسُ مِنْ اُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاتِهٖ وَصِيَامِهٖ وَزَكَاتِهٖ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَاَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا، فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهٖ وَهٰذَا مِنْ حَسَنَاتِهٖ، فَاِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهٗ قَبْلَ اَنْ يُقْتَصَّ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا اُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ (جامع ترمذی:2418)

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: ”کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے کہتے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے یہاں مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم و دینار اور ضروری سامان زندگی نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پہ تہمت باندھی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، اور کسی کو مارا ہو گا، پھر اسے سب کے سامنے بٹھایا جائے گا اور بدلے میں اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کے ظلموں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس پر رکھ دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا“ ۔

          یعنی اعمال کرتے رہے نمازیں پڑھتے رہے ، روزہ رکھتے رہے، حج کرتے رہے ، صدقہ و خیرات کرتے رہے ، نیک اعمال کرتے رہے لیکن اس بات کی فکر ہی نہیں کی کہ وہ کام بھی کرتے رہے کہ جن سے اعمال ضائع ہوتے رہے اور فکر اور توجہ ہی نہیں۔

چٹی چادر عملاں والی اینوں داغ نہ لاویں جنیا

فیر حشر نوں ایہ نہ آکھیں مولا ایہہ کی بنیا

آئیے قرآن بتاتا ہے کہ سب سے بری خسارے والی بات کیا ہے سنیے گا کہ قرآن مجید کیا کہتا ہے:

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا ۔ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (سورۃ الکھف:103-104)ترجمہ: فرما دیجیے، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی، جبکہ وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔یعنی اپنی طرف سے نیک اعمال کرتے رہے اور ان کو اچھا سمجھتے رہے لیکن جب ان اعمال کے حساب کی باری آئی تو معلوم ہوا کہ سب خالی ۔ حضرت آئیں اپنے کردار کو دیکھیں اپنے اعمال کا محاسبہ کریں دیکھیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سراسر خسارے میں ہیں اور سمجھ خود کو فائدے میں رہے ہیں۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ تم بھی سابقہ اقوام کی طرح کام کر رہے ہو وہ اپنے فائدے اٹھا گئے تم بھی وہی کر رہے ہو اور پھر ان کے اعمال دنیا میں ضائع ہو گئے اور وہ خسارے اتھانے والے ہو گئے ۔ اگر تم بھی انہیں کی روش اختیار کرو گے تو تمہارے ساتھ بھی وہی ہو گا  ارشاد فرمایا:

سابقہ اقوام کا انجام اور ہماری خوش فہمی:  سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا-فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا-اُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (سورۃ توبہ:69)ترجمہ: تمہارا حال ان لوگوں جیسا ہے جو تم سے پہلے تھے۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں زیادہ تھے۔ پھر انہوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا، سو تم نے بھی اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا، جیسے تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا تھا، اور تم بھی اسی طرح کی باتوں میں پڑ گئے جس طرح وہ پڑے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے، اور یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

سابقہ اقوام کی ہلاکت کے اسباب :

قوم عاد: فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً( سورة حم السجدة:16)

تو وہ جو عاد تھے انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زورہے یعنی ہم سے زیادہ کون طاقت ور ہے؟۔

قوم لوط: وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ (سورة الاعراف:80)

اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی۔

قوم شعیب: قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ (سورة الاعراف:85)

بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ۔

قوم فرعون: فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى ۔ فَكَذَّبَ وَعَصٰى ۔ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى۔ فَحَشَرَ فَنَادٰى۔ فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى(سورة النازعات:20-24)

پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔ تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ پھر اس نے (مقابلے کی) کوشش کرتے ہوئے پیٹھ پھیر دی ۔ تو (لوگوں کو) جمع کیا پھر پکارا۔ پھر بولا: میں تمہارا سب سے اعلیٰ رب ہوں۔

 یعنی وہ وہ اعمال ہیں جن کی وجہ سے سابقہ قومیں ہلاک ہوئیں اور ان کا کرادر اللہ تعالی بیان فرماتا ہے اور ساتھ تنبیہ فرماتا ہے کہ تم خیال کرو کہیں تم بھی ان کی روش پر تو نہیں چل رہے اگر ایسا ہوا تو جس طرح وہ خسارے میں رہے اسی طرح تم بھی خسارے میں رہو گے۔

اللہ پاک ہم سب ہدایت نصیب فرمائے اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

 تحقیق و تدوین : محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ دی سکالر : یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)

 

Share:

10/21/26

مفعول فیہ کی تعریف، اقسام اور مثالیں | ظرفِ زمان و ظرفِ مکان Arabic Grammar, Mafool fihi

 مفعول فیہ

جس سے پہلے فی حرفِ جر محذوف ہوتا ہے

تعریف: مفعول فیہ وہ اسمِ منصوب ہے، جو اس زمان یا مکان پر دلالت کرے، جس میں فعل واقع ہوتا ہے، اسے ظرف بھی کہتے ہیں، اس کی دو قسمیں ہیں:

۱- ظرفِ زمان ۲- ظرفِ مکان

۱- ظرفِ زمان: وہ اسمِ ظرف ہے، جو ایسے زمانہ پر دلالت کرے، جس میں فعل واقع ہو۔ جیسے   حَفِظْتُ دَرْسًا صَبَاحًا  ،  جِئْتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، ان مثالوں میں  صَبَاحًا  اور  يَوْمَ الْجُمُعَةِ مفعول فیہ ہیں۔

  ۲- ظرفِ مکان:  وہ اسمِ ظرف ہے، جو ایسی جگہ پر دلالت کرے، جس میں فعل واقع ہو۔ جیسے  وَقَفْتُ أَمَامَ الْمِرْآةِ  (میں شیشے کے سامنے کھڑا ہوا)  جَلَسَتِ الْهِرَّةُ تَحْتَ الْمَائِدَةِ  (بلی دسترخوان کے نیچے بیٹھی)

    اقسام 

ظرفِ زمان کی دو قسمیں ہیں:

 ۱- غیر محدود زمانہ

۲- محدود زمانہ  

غیر محدود زمانہ:  جس کی حد متعین نہ ہو۔ جیسے  دَهْرٌ  (زمانہ)  حِيْنٌ  (جب)  

محدود زمانہ:  جس کی حد متعین ہو۔ جیسے  يَوْمٌ  (دن)  لَيْلَةٌ  (رات)

ظرفِ زمان، خواہ محدود ہو یا غیر محدود، دونوں  في  حرفِ جر کے حذف کے ساتھ منصوب ہوتے ہیں۔ جیسے  مَكَثْتُ فِي الْمَدْرَسَةِ شَهْرًا  (میں مدرسہ میں ایک ماہ تک ٹھہرا رہا)،  قُمْتُ دَهْرًا  (میں ایک زمانہ کھڑا رہا) یہ اصل میں  فِي شَهْرٍ  اور  فِي دَهْرٍ  تھے۔

 ظرفِ مکان کی بھی دو قسمیں ہیں:

۱- محدود جیسے  السُّوْقُ  (بازار)  الدَّارُ  (گھر)

۲- غیر محدود جیسے  خَلْفَ  (پیچھے)،  فَوْقَ  (اوپر)،  أَمَامَ  (سامنے)

ظرفِ مکان غیر محدود میں  فِيْ  کا حذف کرنا ضروری ہے۔ جیسے  وَقَفْتُ أَمَامَ الْمِرْآةِ ،  طَارَتِ الْحَمَامَةُ فَوْقَ رُؤُوْسِنَا

 ظرفِ مکان محدود میں  فِيْ  کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جیسے  مَشَيْتُ فِي السُّوْقِ ،  جَلَسْتُ فِي الدَّارِ  مگر  دَخَلَ  کے بعد  فِيْ  کا ذکر نہ کرنا بھی جائز ہے۔  دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ،  لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ    

عامل کا حذف 

جب قرینہ پایا جائے تو مفعول فیہ کے عامل کو بھی جوازاً حذف کر دیا جاتا ہے۔ جیسے کوئی کہے  مَتَى جِئْتَ  (تو کب آیا) تو اس کا جواب صرف  يَوْمَ الْجُمُعَةِ  سے دیا جا سکتا ہے، جو اصل میں  جِئْتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ  ہے۔ اور کبھی اس کا عامل وجوباً حذف ہوتا ہے، جب کہ ظرف، حال، صفت، صلہ یا خبر واقع ہو، جیسے  مَرَرْتُ بِزَيْدٍ عِنْدَكَ ، و  مَرَرْتُ بِرَجُلٍ عِنْدَكَ  اصل میں  بِزَيْدٍ مُسْتَقِرًّا عِنْدَكَ  اور  بِرَجُلٍ مُسْتَقِرٍّ عِنْدَكَ  تھے۔

 

Share:

10/11/26

مفعول مطلق اور نائب مفعول مطلق کی تعریف، اقسام اور مثالیں | علم النحو | arabic grammar |

مفعول مطلق

 (جو حرفِ جر کی قید کے بغیر بولا جائے)

تعریف: وہ مصدر منصوب ہے، جو فعلِ مذکور کا مصدر ہو اور فعلِ مذکور ہی اسے نصب دے۔ جیسے كَلَّمَ اللهُ مُوٰسَى تَكْلِيْمًامیں تَكْلِيْمًا مفعول مطلق ہے۔

ذکر کرنے کی غرض: مفعول مطلق کو ذکر کرنے کے تین مقصد ہوتے ہیں:

 1. تاکید

2. بیانِ نوع

3. بیانِ عدد

۱۔ تاکید: اپنے ماقبل فعل کی تاکید کے لیے ذکر کیا جاتا ہے، اور مصدر کے الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی بلکہ اپنے مشہور وزن پر آتا ہے۔ جیسے  لَاعَبَ الْحَسَنُ مُلَاعَبَةً  (حسن خوب کھیلا)  فَرِحْتُ فَرَحًا  (میں واقعی خوش ہوا)  مُلَاعَبَةً  اور  فَرَحًا  مفعول مطلق ہیں۔

۲۔ بیانِ نوع: اپنے فعل کے واقع ہونے کی حالت اور نوعیت بیان کرنے کے لیے لایا جاتا ہے۔ جیسے  وُثُوْبَ النَّمِرِ   وُثُوْبَ الْأَسَدِ    (چیتا/شیر کے جھپٹنے کی طرح جھپٹا) اور عموماً یہ  فِعْلَةٌ  کے وزن پر آتا ہے۔ جیسے  جَلَسَ التَّلْمِيْذُ جِلْسَةَ الْأُسْتَاذِ  (طالبِ علم استاد کے بیٹھنے کی طرح بیٹھا)  وُثُوْبَ الْأَسَدِ  اور  جِلْسَةَ الْأُسْتَاذِ  مفعول مطلق ہیں۔

 ۳۔ بیانِ عدد:  اپنے فعل کے واقع ہونے کی تعداد بیان کرنے کے لیے لایا جاتا ہے اور عموماً  فَعْلَةٌ  کے وزن پر آتا ہے۔ جیسے  أَكَلَ عَلِيٌّ أَكْلَتَيْنِ  (علی نے دو دفعہ کھانا کھایا)،  ضَرَبْتُ الْخَادِمَ ضَرْبَةً  (میں نے خادم کو ایک دفعہ مارا)  أَكْلَتَيْنِ  اور  ضَرْبَةً  مفعول مطلق ہیں۔

جب قرینہ پایا جائے تو مفعول مطلق سے پہلے فعل حذف ہو جاتا ہے، کبھی اس کا فعل وجوباً حذف ہوتا ہے اور کبھی جوازاً۔

 اس کے وجوبِ حذف کی مثال۔ جیسے قِیَامًا وَّلَا قُعُوْدًا اصل میں قُمْ قِیَامًا وَّلَا تَقْعُدْ قُعُوْدًا تھا، فَاِمَّا مَنًّا وَّ اِمَّا فِدَآءً اصل میں فَاِمَّا تَمُنُّوْنَ مَنًّا وَّ اِمَّا تَفْدُوْنَ فِدَآءً تھا۔ اسی طرح سُبْحَانَ اللهِ، مَعَاذَ اللهِ، رَعْیًا، سَقْیًا وغیرہ سے پہلے فعل کا حذف کرنا واجب ہے۔

فعل کے جوازِ حذف کی مثال، جیسے باہر سے آنے والے کو خَیْرَ مَقْدَمٍ کہا جائے تو اس سے پہلے فعل کا حذف کرنا جائز ہے، اصل میں قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَیْرَ مَقْدَمٍ تھا۔

نائب مفعول مطلق: وہ اسماء جو مصدر تو نہیں مگر مفعول مطلق کے قائم مقام استعمال ہوتے ہیں اور انہیں نصب دی جاتی ہے، یہ ہیں: مرادف، صفت، عدد، آلہ، کل، بعض وغیرہ اور اسمائے اشارہ

مرادف: اس سے مراد وہ مصدر ہے، جو مفعول مطلق کا ہم معنی ہو اور اس کی جگہ آ جائے۔ جیسے اَقْرَرْتُ بِلَذَّتِیْ اِعْتِرَافًا، فَقَعَدْتُ جُلُوْسًا

 صفت: وہ اسم، جو اپنے سے پہلے فعل کے مصدر کی صفت بنے۔ جیسے جَرَى التِّلْمِیْذُ سَرِیْعًا اصل میں جَرَیًّا سَرِیْعًا تھا۔

 عدد: مصدر کی بجائے اسمائے اعداد ذکر کیے جائیں۔ جیسے ضَرَبْتُ زَیْدًا ثَلَاثًا

آلہ: وہ اسم ہے، جس سے مذکور فعل صادر ہو۔ جیسے ضَرَبَ اللَّاعِبُ الْكُرَةَ قَدَمًا

کل اور بعض: جب مذکور فعل کے مصدر کی طرف مضاف ہوں۔ جیسے جَدَّ الطَّالِبُ كُلَّ الْجِدِّ یَا بَعْضَ الْجِدِّ

اشارہ: جس کا مشارالیہ مذکور فعل کا مصدر ہو۔ جیسے اَحْسَنَ الْعَامِلُ هٰذَا الْاِحْسَانَ

 نوٹ: مذکورہ بالا اسماء کے علاوہ اور بھی چند اسماء ہیں، جو مفعول مطلق کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ مثلاً الْقُرْفُصَاءَ اور وہ ضمیر، جس کا مرجع فعلِ مذکور کا مصدر ہو۔ جیسے جَامَلْتُكَ مُجَامَلَةً لَّا اُجَامِلُهَا اَحَدًا

 

مفعول مطلق کی تعریف

 مفعول مطلق کی اقسام

 نائب مفعول مطلق

مفعول مطلق کی مثالیں

 مفعول مطلق اور نائب مفعول مطلق

 علم النحو اردو میں

 Arabic Grammar in Urdu

Mafool Mutlaq in Arabic Grammar

Share:

9/29/26

وینس شہر پانی میں کیوں ڈوب رہا ہے؟ تاریخ، لکڑی کے ستون اور نہروں کے حقائق The Sinking City Built on Wood

پانی پر تیرتے شہر کی سحر انگیز تاریخ اور پوشیدہ حقائق

دنیا میں کئی شہر اپنی خوبصورتی اور فنِ تعمیر کی وجہ سے مشہور ہیں، لیکن اٹلی (اطالیہ) کا شہر وینس (Venice) ایک ایسا عجوبہ ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ نہ سڑکیں، نہ گاڑیاں اور نہ ہی دھواں۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں سڑکوں کی جگہ نیلگوں نہریں بہتی ہیں اور گاڑیوں کی جگہ لکڑی کی خوبصورت کشتیاں جنہیں گُنڈولا (Gondola) کہا جاتا ہے، روان دوان رہتی ہیں۔ لیکن یہ شہر صرف سیاحت کا مرکز نہیں، بلکہ انسان کی عزم، انجینئرنگ اور دشمنوں سے بقا کی ایک عظیم داستان ہے۔

وینس کی پیدائش: خوف سے جنم لینے والی عظیم سلطنت

وینس کی آبادی کی کہانی دشمنوں کے خوف، نقل مکانی اور انسانی عقل و حکمت کی ایک زبردست مثال ہے۔ یہ شہر کسی منصوبہ بندی کے تحت ایک دن میں نہیں بسایا گیا، بلکہ ہنگامی حالات اور ضرورت کے تحت وجود میں آیا۔وینس کے آباد ہونے کی شروعات 5ویں صدی عیسوی (تقریباً 421ء) سے ہوئی۔ اطالوی روایت اور مورخین کے مطابق، وینس کا پہلا چرچ (San Giacomo di Rialto) 25 مارچ 421ء کو قائم ہوا تھا، اور اسی دن کو وینس کے قیام کی رسمی تاریخ مانا جاتا ہے۔

پس منظر:     وحشی قبائل کا حملہ: پانچویں صدی عیسوی میں جب مغربی رومن سلطنت کمزور ہو رہی تھی، تو اتر سے بربر اور وحشی قبائل :جیسے ہنز (Huns) جن کا قائد اٹلا (Attila the Hun) تھا، اور گوٹھس (Goths/Lombards) نے شمال مشرقی اٹلی کی سرسبز و شاداب سرزمین اور شہروں پر ہولناک حملے شروع کر دیے۔ حملہ آوروں کے ظلم و ستم، قتل و غارت اور لوٹ مار سے بچنے کے لیے مقامی رومن شہریوں اور کسانوں نے خشکی کے شہر چھوڑ کر سمندر کے قریب واقع دلدلی جھیل (Venetian Lagoon) کے چھوٹے چھوٹے جزائر کا رخ کیا۔ یہ جزیرے کیچڑ، دلدل اور کم گہرے سمندری پانی سے گھیرے ہوئے تھے۔ حملہ آوروں کے پاس گھوڑے اور خشکی کی فوج تھی، ان کے پاس نہ کشتیاں تھیں اور نہ ہی انہیں دلدل میں راستہ معلوم تھا، اس لیے وہ ان جزائر پر حملہ نہیں کر سکتے تھے۔ یہ دلدل مقامی لوگوں کے لیے ایک قدرتی ڈھال بن گئی۔ شروع میں لوگ ان جزائر کو صرف عارضی پناہ گاہ سمجھتے تھے اور حملے ختم ہونے پر واپس خشکی پر چلے جاتے تھے، لیکن جب 6ویں اور 7ویں صدی میں حملے مسلسل جاری رہے تو لوگوں نے یہاں مستقل رہنے کا فیصلہ کر لیا۔زمین چونکہ نرم اور دلدلی تھی، اس لیے انہوں نے اطرافی جنگلات سے ملین کی تعداد میں درخت کاٹ کر ان کے تنے (Wood Logs) کیچڑ کے اندر سخت چٹان تک ٹھونک دیے۔ان لکڑیوں کے اوپر پتھر رکھ کر مضبوط پلیٹ فارم بنائے گئے جن پر بعد میں گھر، محل اور چرچ تعمیر کیے گئے۔ چونکہ جزائر پر کھیتی باڑی کے لیے زمین نہیں تھی، اس لیے وینس کے لوگوں نے مچھلی پکڑنے، نمک بنانے اور کشتی رانی پر توجہ دی۔ رفتہ رفتہ یہ لو گ بہترین بحری قزاق، تاجر اور کشتی بان بن گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وینس قرونِ وسطیٰ کا سب سے امیر اور طاقتور بحری جمہوریہ (Republic of Venice) بن گیا۔ یہ شہر جو کبھی خوف کے مارے بھاگے ہوئے پناہ گزینوں نے بنایا تھا، آگے چل کر دنیا کی سب سے بڑی بحری اور تجارتی طاقت بنا۔

پورے تاریخی شہر وینس کے نیچے لکڑی کے ستون (Piles/Pillars) موجود ہیں :  صرف نہروں میں ہی نہیں، بلکہ تمام عمارتوں، سڑکوں اور چوکوں کے نیچے بھی۔ اصل میں وینس کا پورا شہر پانی کے اوپر لکڑی کے ایک بہت بڑے اور مضبوط ڈھانچے پر کھڑا ہے۔وینس ایک دلدلی جھیل (Lagoon) میں بنایا گیا تھا جہاں زمین انتہائی نرم، ریتلی اور مٹی والی تھی۔ اتنی نرم زمین پر پتھر کی وزنی عمارتیں تعمیر کرنا ناممکن تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انجینئرز نے لاکھوں کی تعداد میں لکڑی کے ستون پانی اور مٹی کے نیچے گہرے گھسیڑ کر ایک مضبوط بنیاد (Foundation) تیار کی۔ پہلے لکڑی کے نوک دار اور لمبے تناوں (پائلز) کو نرم مٹی اور کیچڑ سے گزار کر نیچے موجود سخت مٹی/چٹان (Caranto) کی تہہ تک ٹھونک دیا گیا۔ ان ستونوں کے اوپر لکڑی کے تختے (Wooden Planks) رکھے گئے۔ ان تختوں کے اوپر پتھر کی تہہ بنائی گئی اور پھر ان پتھروں پر عمارتیں، سڑکیں اور پل تعمیر کیے گئے۔  یہ ایک سائنسی معجزہ ہے! لکڑی کے گلنے کے لیے آکسیجن اور بیکٹیریا/پھپھوندی (Fungus) کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ یہ ستون کیچڑ اور پانی کے اتنے نیچے دبے ہوئے ہیں کہ وہاں آکسیجن (ہوا) بالکل نہیں پہنچتی۔ ہوا نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو لکڑی سڑتی ہے اور نہ ہی لکڑی کو کھا جانے والے کیڑے یا بیکٹیریا زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پانی میں موجود معدنیات (Minerals) صدیوں کے دوران لکڑی کے مساموں میں جذب ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے یہ لکڑی وقت کے ساتھ ساتھ پتھر کی طرح سخت (Petrified) ہو چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف سینٹ مارکس باسیلیکا (St. Mark's Basilica) اور اس کے چوک کی بنیادوں میں 10 لاکھ سے زائد لکڑی کے ستون استعمال کیے گئے ہیں، اور پورا شہر ایسی ہی لاکھوں لکڑیوں پر قائم ہے۔

وینس کے وسط سے گزرنے والی سب سے بڑی اور اہم نہر کو "گرینڈ کینال" (Grand Canal / Canal Grande) کہا جاتا ہے۔ یہ نہر وینس کا مرکزی واٹر وے (آبی راستہ) ہے اور پورا شہر اسی کے ارد گرد آباد ہے۔یہ نہر انگریزی کے حرف 'S' کی شکل میں پورے شہر کے درمیان سے گزرتی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 3.8 کلومیٹر اور چوڑائی 30 سے 90 میٹر کے درمیان ہے۔ گُنڈولا (Gondola): یہاں کی روایتی اور مشہور سیاحتی کشتی، جسے چپو سے چلایا جاتا ہے۔ واپوریٹو (Vaporetto): یہ پانی پر چلنے والی بسیں (Water Busses) ہیں جو مقامی لوگ اور سیاح عام نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ واٹر ٹیکسی: تیز رفتار نجی کشتیاں۔ اس نہر کے دونوں کناروں پر 13ویں سے 18ویں صدی کے دوران تعمیر کیے گئے 170 سے زائد خوبصورت اور تاریخی محل (Palazzi) واقع ہیں، جو وینس کی قدیم عظمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ گرینڈ کینال کے اوپر چار اہم پل بنے ہوئے ہیں، جن میں سے سب سے پرانا اور معروف ریالٹو برج (Rialto Bridge) ہے۔ یہ تمام نہریں اور آبی راستے اصل میں وینس کی سڑکیں ہیں، جہاں گاڑیوں کا کوئی وجود نہیں اور ہر قسم کی نقل و حمل صرف کشتیوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔

        وینس کی نہروں کی گہرائی ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہے، لیکن عام طور پر یہ کافی کم گہری ہوتی ہیں:مرکزی نہر (گرینڈ کینال): شہر کی سب سے بڑی نہر کی اوسط گہرائی تقریباً 5 میٹر (16 سے 17 فٹ) ہے۔گلیوں کے درمیان کی چھوٹی نہریں: شہر کے اندرونی حصوں میں واقع چھوٹی نہروں کی گہرائی صرف 1.5 سے 2 میٹر (4 سے 6 فٹ) تک ہوتی ہے۔ جوار بھاٹا (Tides): سمندر میں مدوجزر کی وجہ سے نہروں میں پانی کی سطح بدلتی رہتی ہے۔ جب پانی کی سطح کم ہوتی ہے (Low Tide) تو بعض اوقات چھوٹی نہروں میں گندلا کیچڑ نظر آنے لگتا ہے اور کشتیاں چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ صفائی اور گاد (Dredging): وقت کے ساتھ نہروں کی تہہ میں مٹی اور کیچڑ جمع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے بلدیہ وقفے وقفے سے نہروں کا پانی روک کر ان کی صفائی اور کھدائی کرتی ہے تاکہ گہرائی برقرار رہے۔

وینس کی نہروں میں نہانا بالکل منع ہے اور ایسا کرنا غیر قانونی ہے۔ اس کی چند اہم وجوہات ہیں: بھاری جرمانہ: وینس انتظامیہ نے نہروں میں تیرنے، نہانے یا چھلانگ لگانے پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایسا کرنے پر 450 یورو (تقریباً 1,35,000 پاکستانی روپے) سے زائد کا جرمانہ ہو سکتا ہے اور سیاحوں کو شہر سے باہر بھی نکالا جا سکتا ہے۔ پانی کی آلودگی: وینس کے قدیم طرزِ تعمیر کی وجہ سے زیادہ تر عمارتوں اور گھروں کا آلودہ پانی اور سیوریج بلاواسطہ یا بالواسطہ ان ہی نہروں میں جاتا ہے، اس لیے یہ پانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ حادثات کا خطرہ: نہروں میں ہر وقت گنڈولا، واٹر بسیں (Vaporetto) اور تیز رفتار واٹر ٹیکسیاں چلتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے نہانے والے کے کشتی سے ٹکرانے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ مقامی لوگ یا سیاح اگر نہانا چاہتے ہیں تو وہ وینس کے قریب واقع ساحلی جزیرے "لیدو" (Lido di Venezia) کا رخ کرتے ہیں، جہاں کھلے سمندر میں خوبصورت بیچز (Beaches) موجود ہیں۔

پینے کے پانی کا قدیم اور شاہکار نظام

        وینس کے ارد گرد سمندر کا کھارا اور نہروں کا آلودہ پانی تھا، جبکہ زیرِ زمین پینے کے پانی کا کوئی قدرتی چشمہ یا کنواں موجود نہیں تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے وینس کے لوگوں نے ایک ذہین اور منفرد انجینئرنگ کا نظام تیار کیا جسے "پانی کے سانچے والے کنویں" (Vera da Pozzo) کہا جاتا ہے۔بارش کے پانی کا زیرِ زمین فلٹریشن نظام وینس کے ہر کھلے چوک (Campi) اور محلے کے نیچے ایک خاص قسم کا واٹر فلٹر اور واٹر ٹینک بنایا جاتا تھا: کیچمنٹ اور گراؤنڈ فلور: چوک کے فرشی پتھروں میں ڈھلوان بنائی جاتی تھی اور سوراخ دار پتھر رکھے جاتے تھے تاکہ بارش کا پانی نالیوں کے ذریعے نیچے جائے۔ دریا کی ریت کا فلٹر (River Sand Filter): چوک کے نیچے ایک بڑا گڑھا کھود کر اس میں ندی/دریا کی صاف ریت بھری جاتی تھی۔ بارش کا پانی جب اس ریت سے گزرتا تھا تو قدرتی طور پر صاف اور فلٹر ہو جاتا تھا۔ مکئی کی شکل کا حوض (Clay Cistern): ریت کے چاروں طرف چکنی مٹی (Clay) کی ایک موٹی تہہ بنائی جاتی تھی تاکہ باہر سے سمندر کا نمکین پانی اندر نہ آ سکے اور اندر کا صاف پانی باہر نہ ضائع ہو۔ مرکزی اینٹوں کا کنواں: اس گڑھے کے بالکل درمیان میں اینٹوں کا ایک گہرا کنواں بنایا جاتا تھا۔ فلٹر شدہ پانی اینٹوں کے مساموں سے رس کر اس کنویں میں جمع ہو جاتا تھا، جسے لوگ ڈول سے باہر نکالتے تھے۔ ناؤ کے ذریعے پانی کی ترسیل (Acquaroli) جب بارشیں نہ ہوتیں یا خشک سالی ہوتی، تو وینس کے لیے خاص کشتیاں جنہیں Acquaroli کہا جاتا تھا، خشکی سے قریبی ندیوں (جیسے Brenta River) کا میٹھا پانی بھر کر وینس لاتی تھیں اور ان کنوؤں میں ڈال دیتی تھیں۔ 1884ء میں خشکی سے وینس تک پہلی جدید واٹر پائپ لائن بچھائی گئی، جس کے بعد اس قدیم نظام کی ضرورت ختم ہو گئی، لیکن یہ خوبصورت کنویں آج بھی وینس کے چوکوں میں تاریخی یادگار کے طور پر موجود ہیں۔

وینس شہر ہر سال پانی میں کیوں ڈوب رہا ہے اور اس کے بچاؤ کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟

وینس کا پانی میں ڈوبنا ایک تاریخی اور سائنسی حقیقت ہے۔ ماہرین کے مطابق وینس ہر سال تقریباً 1 سے 2 ملی میٹر نیچے دھنس رہا ہے۔   اس شہر کے ڈوبنے کی دو بنیادی وجوہات ہیں:   1. وینس کے ڈوبنے کی وجوہات   زمین کا بیٹھنا (Subsidence):   عمارتوں کا بوجھ: وینس کی وزنی اور قدیم عمارتیں صدیوں سے دلدلی مٹی اور ریت پر دباؤ ڈال رہی ہیں، جس سے زمین آہستہ آہستہ نیچے بیٹھ رہی ہے۔   زیرِ زمین پانی کا اخراج (ماضی کی غلطی): 20ویں صدی میں صنعتی ضرورتوں کے لیے وینس کے نیچے سے وافر مقدار میں میٹھا پانی پمپ کر کے نکالا گیا، جس سے زمین کی نچلی تہیں بیٹھ گئیں۔ اگرچہ 1970ء کی دہائی میں یہ عمل روک دیا گیا تھا، لیکن اس کی وجہ سے شہر کو کافی نقصان پہنچا۔   زمین کی قدرتی پلیٹیں: وینس جس ٹیکٹونک پلیٹ (Tectonic Plate) پر واقع ہے، وہ قدرتی طور پر بھی ہلکی سی جھک رہی ہے۔سمندر کی سطح میں اضافہ (Sea Level Rise):   ماحولیاتی تبدیلیوں (Climate Change) اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا بھر کے سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے۔   وینس کے ارد گرد ایڈریئٹک سمندر (Adriatic Sea) کی سطح بڑھنے سے اونچی لہریں اور طوفان (Acqua Alta) شہر کے اندر تک داخل ہو جاتے ہیں۔.

وینس کو بچانے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟ وینس کو پانی کی نذر ہونے سے بچانے کے لیے اطالوی حکومت اور بین الاقوامی اداروں نے کئی بڑے اور جدید اقدامات کیے ہیں: الف) "موسے" پروجیکٹ (MOSE Project): Rustic Pathways یہ وینس کو بچانے کا سب سے بڑا اور اہم انجینئرنگ شاہکار ہے: کیا ہے؟ سمندر اور وینس کی جھیل (Lagoon) کے ملنے والے تین اہم راستوں پر پانی کے نیچے 78 مصنوعی فولادی دروازے (Mobile Floodgates) نصب کیے گئے ہیں۔ Medium + 1 کیسے کام کرتا ہے؟ عام دنوں میں یہ دروازے سمندر کی تہہ میں سوئے رہتے ہیں۔ جب بھی سمندر میں پانی کی سطح خطرناک حد (1.1 میٹر سے اوپر) تک بلند ہوتی ہے، تو ان دروازوں میں ہوا بھر کر انہیں اوپر اٹھا دیا جاتا ہے، جس سے سمندر کا پانی شہر میں داخل ہونے سے رک جاتا ہے۔ نتیجہ: اکتوبر 2020ء میں پہلی بار کامیابی سے استعمال ہونے کے بعد سے اس پروجیکٹ نے شہر کو کئی بڑے سیلابوں اور تباہی سے بچایا ہے۔ Rustic Pathways ب) بڑے کروز جہازوں پر پابندی: حکومت نے وینس کی مرکزی نہر اور تاریخی مرکز کے قریب سے بڑے کروز شپ (کروز جہازوں) کے گزرنے پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ ان بڑے جہازوں کی تیز لہریں نہروں کی بنیادوں اور دیواروں کو شدید نقصان پہنچاتی تھیں۔ Medium ج) عمارتوں اور ساحلی بنیادوں کی مضبوطی: تاریخی عمارتوں کے زیرِ زمین پتھروں کی کیمیکل ٹریٹمنٹ اور اینٹوں کی مرمت کی جا رہی ہے تاکہ نمکین پانی سے ان کی تنزل پذیری کو روکا جا سکے۔ شہر کے چوکوں اور سڑکوں کی اونچائی کو تھوڑا بلند کیا جا رہا ہے تاکہ پانی آسانی سے اوپر نہ آ سکے۔ د) قدرتی دلدل اور دلدلی زمین (Salt Marshes) کی بحالی: وینس کی جھیل میں موجود قدرتی دلدلی زمینیں اور پودے سمندری لہروں کا زور توڑنے کا کام کرتے ہیں۔ حکومت ان قدرتی ماحولیاتی حصاروں کو دوبارہ بحال کر رہی ہے۔

وینس میں جہاں آپ کو درخت، پارک یا چھوٹے باغ نظر آتے ہیں، وہاں کے نیچے کا نظام عام عمارتوں سے تھوڑا مختلف ہوتا ہے:درخت لکڑی کے ستونوں کے اوپر نہیں اگائے جاتے: عمارتوں کی بنیاد میں ٹھونکے گئے لکڑی کے ستون صرف وزنی عمارتوں اور ساختوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے ہوتے ہیں۔ جن جگہوں پر باغ، گراس یا درخت ہیں، وہاں کی زمین میں لکڑی کے ستون نہیں ٹھونکے گئے۔قدرتی مٹی اور مٹی کے کٹاؤ سے بچاؤ: یہ سرسبز علاقے جزیروں کے اندرونی حصے ہوتے ہیں جہاں قدرتی مٹی اور کیچڑ جمع ہوتا ہے۔ ان باغوں کی حدود میں گردونواح میں پتھر کی دیواریں اور نہر کی رکاوٹیں (Sea Walls) بنائی جاتی ہیں تاکہ سمندر کا پانی باغ کی مٹی کو بہا کر نہ لے جائے۔تازہ پانی اور درختوں کی قسم: چونکہ نہروں کا پانی نمکین ہوتا ہے، اس لیے درختوں کی جڑیں گہرائی میں جانے کے بجائے اوپر کی مٹی میں پھیلتی ہیں جو بارش کے پانی سے نم رہتی ہے۔ وینس میں صرف وہی درخت اور پودے اگ سکتے ہیں جو نمکین ہوا اور نچلی سطح کے نمکین پانی میں بھی زندہ رہ سکیں۔وینس میں زمین کی شدید کمی کی وجہ سے بڑے باغات انتہائی کم ہیں اور جو چھوٹے باغ موجود ہیں (انہیں مقامی زبان میں Giardini کہا جاتا ہے)، وہ زیادہ تر جزیرے کی قدرتی سطح کے اوپر مٹی کی اوپری تہہ میں قائم ہیں۔

کیا وینس شہر میں اب نئی عمارتیں بنائی گئی ہیں؟

 وینس کے تاریخی مرکز (Historic Center) میں اب نئی جدید عمارتیں بنانے کی اجازت بالکل نہیں ہے، لیکن کچھ مخصوص طریقوں سے تبدیلی اور جدید کاری کی گئی ہے۔ 1:تاریخی مرکز میں نئی تعمیرات پر پابندی: وینس کا مرکزی اور تاریخی حصہ یونیسکو (UNESCO) کی عالمی ثقافتی میراث (World Heritage Site) میں شامل ہے۔ شہر کی تاریخ اور پرانے طرزِ تعمیر کو محفوظ رکھنے کے لیے انتظامیہ نے سخت قوانین بنائے ہیں: طرزِ تعمیر میں تبدیلی کی ممانعت: تاریخی جزیروں پر کوئی نئی اونچی یا جدید شیشے والی عمارت (اسکائی اسکریپر) نہیں بنائی جا سکتی۔ بیرونی خدوخال کی بحالی: پرانی عمارتوں کی مرمت اور بحالی (Restoration) کرتے وقت بھی یہ لازمی ہے کہ عمارت کا بیرونی ڈیزائن، اینٹیں، کھڑکیاں اور رنگ بالکل اصل اور تاریخی طرز پر برقرار رکھے جائیں۔ 2. تاریخی عمارتوں کی اندرونی جدید کاری (Adaptive Reuse) اگرچہ باہر سے نئی عمارتیں نہیں بنائی جاتیں، لیکن صدیوں پرانے محلوں اور گوداموں کے اندرونی حصے (Interior) کو جدید سہولیات کے ساتھ ڈھالا گیا ہے: ہوٹل اور میوزیم: کئی تاریخی محلوں (Palazzi) کو اندر سے لگژری ہوٹلوں، آرٹ گیلریوں اور میوزیمز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فنِ تعمیر کا شاہکار (Fondaco dei Tedeschi): گرینڈ کینال پر واقع 13ویں صدی کے ایک تاریخی تجارتی مرکز کو اندر سے مشہور بین الاقوامی معمار ریم کولہاس (Rem Koolhaas) نے جدید شاپنگ مال میں تبدیل کیا، جبکہ باہر کی تاریخی شکل کو بالکل نہیں چھیڑا گیا۔ 3. جدید اور نئی عمارتیں کہاں ہیں؟ وینس کی تمام نئی اور جدید عمارتیں اس کے خشکی والے حصے (Mainland) پر بنائی گئی ہیں: میسترے (Mestre) اور مارغیرا (Marghera): یہ وینس کا وہ حصہ ہے جو پل کے ذریعے خشکی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہاں تمام جدید عمارتیں، شاپنگ مالز، اپارٹمنٹس، فیکٹریاں اور جدید M9 میوزیم جیسی تعمیرات موجود ہیں۔ تاریخی وینس کو ایک "زندہ میوزیم" کی طرح محفوظ رکھا گیا ہے، اسی لیے وہاں نئی تعمیرات کے بجائے پرانی عمارتوں کو ہی سنبھالا اور سنوارا جاتا ہے۔

وینس میں عمارتوں کے اندر اور ان کے بالکل نیچے پانی کا ہونا

وینس میں عمارتوں کے اندر اور ان کے بالکل نیچے پانی کا ہونا اس شہر کے منفرد نظام اور ساخت کا حصہ ہے: کشتیوں کا گیراج (Water Garage): تاریخی محلوں اور عمارتوں کا نچلا حصہ جسے "Portego" یا واٹر اینٹرنس کہا جاتا ہے، خاص طور پر اس لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ کشتیاں براہِ راست عمارت کے اندر یا اس کے نیچے پارک ہو سکیں۔ لوگ نہر کے راستے سے آ کر سیدھے اپنے گھر یا عمارت کے اندر قدم رکھتے ہیں۔ عمارت کا بنیادی ڈھانچہ (Istrian Stone Base): عمارتوں کی جو دیواریں پانی کو چھوتی ہیں، ان کے لیے ایک خاص قسم کا سخت اور پانی سے محفوظ رہنے والا سفید پتھر "استرین اسٹون" (Istrian Stone) استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پتھر پانی کو جذب نہیں کرتا، جس کی وجہ سے نہر کا پانی عمارت کی اوپر والی اینٹوں اور لکڑی کی ساخت تک نہیں پہنچ پاتا اور عمارتیں صدیوں سے محفوظ ہیں۔ زمینی سطح اور گراؤنڈ فلور: وینس میں عمارتوں کا گراؤنڈ فلور (نچلی منزل) عام طور پر رہائش کے لیے استعمال نہیں ہوتا کیونکہ اونچی لہروں (Acqua Alta) یا پانی کی سطح بلند ہونے سے وہاں پانی آ جاتا ہے۔ اسی لیے گراؤنڈ فلور کو صرف سامان کی ترسیل، کشتیوں کی پارکنگ یا گودام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ رہائشی کمرے اوپر والی منزلوں پر ہوتے ہیں۔









 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive