Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

4/5/25

اسلام اور عورت خواتین | Islam and Women | The Status, Rights, and Role of Women in Islam

اسلامی تعلیمات میں خواتین کی حیثیت اور حقوق

فرد انسانی معاشرے کی اکائی ہے،  افراد کے مجموعے کا نام معاشرہ ہے۔ فرد کی دو انواع ہیں ایک مرد ہے اور دوسری نوع صنف نازک عورت ہے۔ ہر ایک نوع اپنی حدود و قیود کے اعتبار سے  معاشرے کے لیے بہت اہم ہے ، کسی بھی صورت میں کمی بیشی معاشرے کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔کسی بھی مذہب یا تہذیب میں اس اہمیت کو مسترد نہیں کیا گیا کیوں کہ نوع بشری کی بقاء و سلامتی کے لیے دونوں برابری کی سطح پر ذمہ دار ہیں۔ جسمانی بناوٹ میں اگرچہ مرد کو طاقتور اور عورت کو کمزور بنایا گیا ہے لیکن عورت کی معاشرتی ضرورت و اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں عورتوں کے ساتھ اگرچہ اصولی سطح پر کوئی امتیازی سلوک نہیں برتا گیا  لیکن معاشرے میں عملی طور پر ناروا سلوک کیا گیا ہے۔ ہمیں قبل ازظہورِ اسلام  عرب معاشرے سے ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بچی کی پیدائش پر شرمندہ ہونا ، زندہ درگور کیا جانا  وغیرہ۔ مغربی معاشرے میں عورت کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا رہا ہے؟ اس کی مثال مغربی لٹریچر میں نمایا ملتی ہے ۔ عور ت کے لیے کیسے کیسے الفاظ استعمال ہوئے؟اور کس کس مقصد کے لیے عورت کااستعمال ہوتا ہے؟ اور عورت کی حیثیت کیا ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب تلاش کیا جائے تو سوائے شرمندگی کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ۔

        اسلام وہ مذہب ہے کہ جس نے عورت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور مرد کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ عورت کی اہمیت کو سمجھے اور اس کے مطابق اس کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ اسلام نے عورت کے لیے چند انفرادی اقدار کا تعین  اور ان کی پابندی کی تلقین کرتے ہوئے مردوں کے برابر کا درجہ دیا ہے۔ اگر مرد کو گھر کا سربراہ بننے اور حاکم ہونے کا مژدہ سنایا ہے تو دوسری طرف عورت کے پاؤں کے نیچے جنت کی بشارت دے کر اسے اولاد کے ماتھے کا جھومر بنا دیا ہے۔ اسلامی تعلیمات نے عورت کو کیا حیثیت بخشی ہے ؟ اس بات کا اندازہ ہم اس بات سے لگاتےہیں کہ اسلام نے عورت کو کیا کیا حقوق عطا کیے ہیں ان حقوق سے ہم عورت کی حیثیت کا تعین کر سکتے ہیں۔ عورت معاشرتی اعتبار سے ایک ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت رکھتی ہے بالکل اسی اعتبار سے مرد دکو دیکھا جائے تو جیسے مرد کی مختلف حیثیتیں ہیں اسی طرح عورت کی بھی مستقل حیثیتیں ہیں ۔اسلام نے عورت کو ہر حیثیت میں ایک لازوال عزت اور شرف سے نوازا ہے۔ ذیل میں اسلامی تعلیمات میں عورت کے لیے مختلف حیثیتوں میں مقرر کردہ حقوق  و فرائض  اور فضائل کا جائزہ لیتے ہیں:

بیٹی

بچے اور بچیاں اللہ کی نعمت ہیں، قرآن نے انہیں  "زینۃ الحیاۃ الدنیا"[1]دنیا کی زینت کہا ہے نبی کے توسط سے مسلمانوں کو دعا مانگنے کا طریقہ[2] سکھایا گیا ہے۔

عورت کی خاندان میں ایک حیثیت بیٹی کی ہے۔ بیٹی کی حیثیت سے نفسیاتی طور پر باپ کا رجحان بیٹی کی تربیت اور دیکھ بھال کی طرف زیادہ ہوتا ہے اور بیٹی خدمت گزاری میں اپنے باپ کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے۔ عرب معاشرے میں جہاں اور بے شمار برئیاں تھی وہاں ایک یہ بھی اذیت ناک روایت موجود تھی کہ لوگ بیٹی کی ولادت پر بہت افسردہ ہوتے تھےا ور بیٹی کاپیدا ہونا اپنے لیے شرمندگی کا باعث سمجھتے تھےاور کئی لوگ اور قبائل اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن ان زندہ دفنائی گئی بچیوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا ، یہ دراصل ان لوگوں کے لیے تذلیل کا باعث ہو گا کو یہ گھناؤنا جرم کرتے تھے۔ اسلام نے عورت کو مکمل حفاظت کی ضمانت عطا کی بلکہ وہ معاشرہ جب ایک لڑکی کی پیدائش پر کہرام مچ جاتا تھا اس معاشرے میں نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی کے لیے ارشاد فرمایا کہ میری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے کئی روایات میں یہ بات ملتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ جس نے میری بیٹی کو ناراض کیا اس نے گویا میں محمد  رسول اللہ ﷺ کو ناراض کیا ۔ جب شادی کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا نبی کریم ﷺ کو ملنے کے لیے آپ ﷺ کے گھر تشریف لاتیں تو آپ ﷺ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوتے اور انہیں اپنی جگہ پر بیٹھاتےاور ان کے بیٹھنے کے لیے اپنی چادر بھی بچھا دیا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے بیٹی کے رشتے کو اس قدر مقدس بیان فرمایا کہ ارشاد فرمایا جس نےدو بیٹیوں کی تربیت کی ان کی اچھی پرورش کی اور ان کی شادی کی تو وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا اورانگلیوں کو ساتھ ملا کر اشارہ کیا  ۔جامع ترمذی میں روایت ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بیٹیوں میں سے کسی ایک کے ذریعے آزمایا گیایعنی ایکیا ایک سے زائد بیٹیاں عطا کی گئیں اور اس نے ان پر صبر کیا، تو وہ بیٹیاں اس شخص کے لئے دوزخ سے آڑ بن جائیں گی۔آنجناب ﷺ نے ایک بار حضرت سراقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: تمہیں اچھا صدقہ نہ بتاؤں؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اس بیٹی پر خرچ کرنا، جو بیاہ ہونے کے بعد دوبارہ تمہارے گھر لوٹادی گئی ہو۔(الادب المفر للبخاری)

بیٹی کے حقوق

1.   بچیوں کا پہلا حق یہ ہے کہ ان کی پیدائش حلال تعلق کے نتیجے میں ہو۔

2.   تعلیم دلوانا بچی کا حق اور والدین کا فریضہ ہے۔ ابوذر قلمونی لکھتے ہیں: فرائض کا علم عورت کو اپنے شوہر یا والد سے حاصل کرنا چاہیے[3]۔ بچیاں عہد اسلامی میں بہت اہتمام سے علم حاصل کرتی تھیں۔زینب جوحضرت ام سلمہ کی بیٹی تھی ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ وہ اپنے زمانے کی فقیہ تھیں۔[4]

3.   تربیت انسانیت کا جھومر اور اسلامی تعلیمات کا محور ہے۔ خود نبی کریمﷺ نے اپنی بیٹیوں کی اعلیٰ تربیت فرمائی، قرآن کریم نے تمام مسلمانوں کو حکم دیاہے: "خود بھی نیک کام کرکے جہنم سے بچو اور اولاد کو بھی بچاؤ"۔[5] اور یہ صرف اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ ہی ممکن ہے۔

4.   نفقہ و کفالت بھی بچیوں کا حق ہے۔ والدین و سرپرست ان کی مالی کفالت کریں اور ان کے جملہ اخراجات اپنی وسعت کے مطابق اٹھائیں۔[6] اگر بچے معذور ہوں تو ساری زندگی ان کی کفالت والدین کے ذمے رہتی ہے۔

5.   بیٹیوں سے محبت ان کا حق ہے۔ سیرت طیبہ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ بچوں سے پیار کرتے ، آپ نے فرمایا جو بچوں سے رحمت و محبت کا سلوک نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔[7]

6.   رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ بچوں کی عزت کی جائے ان کی اہانت کا رویہ اختیار نہ کیا جائے۔ جیسا کہ ارشاد نبویﷺ ہے: " اپنے بچوں کی عزت کرو اور ان کی اچھی تربیت کرو۔ [8]

7.   بیٹی کا یہ حق ہے کہ اس کی پرورش اس کی ماں کے پاس ہو۔ بچیاں چونکہ ماں سے زیادہ مانوس ہوتی ہیں اس لیے بلوغت تک ماں کے پاس رہنے کا حق ہے۔

بہن

بہن بھائی ایک گھر میں میاں بیوی کے علاوہ اہم دو رکن ہیں، ایک گھر کی تکمیل اولاد سے ہوتی ہے اور اولاد میں بیٹی اور بیٹا  دو رکن ہیں جو آپس میں بہن بھائی ہیں ۔ بہن کی حیثیت میں اسلام نے عورت کے ساتھ بہت عمدہ سلوک کیا ور حسن سلوک کی تاکید کی ہے جامع ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے  فرمایا  : جس کی تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ انکے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے ( ان کے تمام حقوق ادا کرے، انکے وجود کو اپنے لئے مصیبت اور باعث ذلت نہ سمجھے) تو وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔ ایک طویل حدیث مبارک بخاری میں ہے جس میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کا حال بیان ہوا ہے۔ ان کے والد غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے  حضرت جابر نے بڑی عمر کی خاتون سے شادی کی  رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کس سے شادی کی کنواری سے یا ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) سے تو عرض کرتے ہیں ثیبہ سے تو فرمایا کنواری سے کیوں نہ کی تو حضرت جابر عرض کرتے ہیں کہ میرا باپ شہید ہوا تو ان کی نو بیٹیاں تھیں یعنی میری بہنیں وہ چھوٹی تھیں اس لیے بڑی عمر والی سے شادی کی تا کہ وہ ان کی خدمت کرے گی ان کی تربیت کی ان کی دیکھ بھال کرے گی۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جابر تو نے بہت اچھا عمل کیا  ۔ یعنی حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کے اپنی بہنوں کے ساتھ حسن سلوک کو سراہا ۔ شریعتِ اسلامی میں یہ اصول ہے کہ اگر باپ فوت ہو جائے تو بہن کی ذمہ داری اس کے بھائی پر عائد ہوتی ہے، بھائی کو اپنی بہن کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ بھائی کی اگر اولاد نہ ہو تو بہن کو اس کی وراثت میں سے حصہ ملتا ہے۔

بہن کے حقوق

بہن کے بھی تقریبا وہی حقوق ہیں جو بیٹی کے ہیں۔ بڑی بہن بڑے کے حکم میں ہے اور بڑا بھائی باپ کی حیثیت رکھتا ہے۔

8.   اگر عورت بالغ ہو جائے تو اس پر شرعا تما عبادات کی ادائیگی لازم ہو جاتی ہے۔ یہ اس کا فریضہ بھی ہے اور حق بھی۔ لہذا اسے عبادت سے نہیں روکا جاسکتا۔

9.   عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نکاح کرے۔ اسلامی نقطہ نظر سے اسے کسی کے ساتھ نکاح کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ آپﷺ نے فرمایا: "شادی شدہ کی دوسری شادی اس کی مرضی کے بغیر نہ کی جائے اور غیر شادی اس کی اجازت کے بغیر نہ کریں"[9]۔

بیوی

عورت کی تیسری حیثیت اور شناخت بیوی کی ہے۔

میاں بیوی ایک خاندان کی بنیاد ہوتے ہیں۔ خاندان معاشرے کی اکائی ہوتا ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان تعلقات  کا بلاواسطہ معاشرے پر اثر ہوتا ہے۔ یہ تعلقات اچھے ہوں تو معاشرہ جنت نظیر بن جاتا ہے۔ گر یہی حالات اچھے نہ ہوں تو ان زوجین کی گود میں پلنےو الے افراد کی نفسیات بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور معاشرے کے لیے ناسور ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام نے میاں بیوی کے درمیان اچھےتعلقات کو ہمیشہ اہمیت دی ہے اور ایک متوازن معاشرے کے لیے زوجین کے حقوق و فرائض مقرر کیے ہیں۔ بیوی کے حقوق  کے معاملے میں خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر  اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ خواتین کو تم نے اللہ کےنام پر اپنے عقد میں لیا ہے لہذا ان کا خیال رکھو ان کی ضروریات کا خیال رکھو اور ہر گز ان پر زیادتی نہ کرو۔ نان و نفقہ کے حوالے سے فرمایا کہ اپنی خواتین کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو یعنی اچھی رہائش کی تاکید کی گئی ہے اور عورت کے حقوق سے متعلق نصیحت کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شوہر کے لیے لازم ہے کہ جو خود کھائے اسے ھبی کھلائے اور جو خود پہنے اسے بھی پہنائے۔نیک سلوک کے حوالے سے  قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا وعاشروھن بالمعروف یعنی ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ۔ حدیث مبارک میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا ‘‘ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے  حق میں بہتر ہے’’۔ یعنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے۔ اگر بیوی سے کبھی کوئی غلطی سرزد ہو جائے یا کوئی ایسا کام ہو جائے جو شوہر کو پسند نہیں تو معافی اور درگزر کی تلقین کی گئی ہے اور سختی سے پیش آنے سے منع کیا گیا ہے۔ عورت کے حقوق میں ایک بنیادی اور اولین حق حقِ مہر قرار دیا گیا اور مرد پر حق مہر لازم یعنی فرض قرارا دیا گیا ہے۔اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہوں یعنی چار ازواج کی اجازت دی گئی ہے لیکن بنیادی شرط عدل و انصاف کو قرار دیا گیا ہے کہ عدل و انصاف میں کمی بیشی کا خطرہ ہو تو تعدد ازدواج سے منع کیا گیا ہے۔ وراثت میں اسلام نے عورت کا حق مقرر کیا ہے ۔ مرد کی اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھا حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ شوہر میں کسی نقص کی وجہ سے جو کہ بیوی کو پسند نہ ہو تو عورت کو ہمیشہ برداشت کرنے کا پابند نہیں بنایا گیا بلکہ  خلع اور فسخ نکاح کا حق عورت کو دیا گیا ہے۔

بیوی کے حقوق

1.   بیوی کی حیثیت قبول کرتے ہی عورت کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنا مہر شوہر سے وصول کرے۔اسی طرح عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا معقول مہر مقرر کروائے۔اور مہر میں ملنے والا مال عورت ہی کی ملکیت ہو گا۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "عورتوں کو ان کا مہر پورا پورا ادا کرو"۔[10] اسی طرح آپﷺ سے سوال پوچھا گیا کہ شوہر پر بیوی کے کیا حقوق ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو تم کھاؤ وہ اپنی بیوی کو کھلاؤجو تم پہنو اسی درجے کا لباس اسے پہناؤ۔[11]

2.   اگر کوئی شوہر بیوی سے حقوق زوجیت ادا کرنے میں ناکام رہے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ عدالت سے نکاح فسخ کروالے۔[12]

3.   اگر شوہر کے ساتھ زندگی گزارنا ناممکن نظر آئے ، صلح کی کوئی صورت نہ بن سکے تو بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت سے خلع حاصل کر کے آزاد ہو جائے۔

4.   اگر کسی شخص کی اور بھی بیویاں ہوں تو مرد پر لازم ہے کہ وہ مساوات کا معاملہ کرے۔یہ مرد پر فرض اور عورت کا حق ہے[13]۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: جس کی دو بیویاں ہوں وہ ان کے درمیان عدل نہیں کرے گاتو قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ندھا جھکا ہوا ہو گا"۔[14]

5.   بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے محارم سے ملے جلے، شوہر کو قطع رحمی کی ممانعت ہے۔

ماں

جس کے پیروں تلے جنت کے ایوان و چمن           جس کے دم سے جگمگاتا ہے شبستان سخن    

عورت کی ایک حیثیت "ماں" ہے۔

عورت بنی نوع انسان کی ماں ہونے کا شرف رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسی مستقل حیثیت ہے کہ اگر مرد باپ ہے تو عورت ماں ہے، جتنا مرد بنی نوع انسان کی بقاء و نشوونما کا ذمہ دار ہے اتنی ہی عورت بھی ذمہ دار ہے ، اس حیثیت میں جتنا مرد قابل عزت ہے اسی قدر عورت بھی قابل قدر جنس ہے۔ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں ایسا وقار اور عزت عطا فرمائی ہے کہ اس کی مثال کسی دوسرے مذہب و معاشرے یا تہذیب میں نہیں ملتی۔ قرآن مجید میں حسن سلوک کے حوالےسے بار بار تاکید کی گئی ،ہر جگہ مرد کے ساتھ عورت کو شاملِ مضمون بنایا گیا ہے اور والدین کے لفظ سے مخاطب کیا گیا ہے، یعنی مردو عورت کو یکساں شمار کیا گیا ہے، لیکن مرد کی نسبت عورت کے حوالے سے زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ عورت کی تکالیف اور پریشانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا الگ سے ذکر اس انداز میں کیا گیا کہ  ماں بچے کو تکالیف پر تکالیف برداشت کر کے جنم دیتی ہے اور پھر اس کی پرورش کی خاطر دو سال اور اڑھائی سال تک اٹھائے پھرتی اور دودھ پلاتی  ہے۔ احادیث مبارکہ میں ماں کے حقوق اور اس کے ساتھ حسن سلوک  کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیری ماں ، پھرعرض کیا اس کے بعد تو بارِ دیگر فرمایا تیری ماں، تیسری مرتبہ پوچھنے پر پھر فرمایا تیری ماں جب چوتھی مرتبہ پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تیرا باپ۔ یعنی اس حدیث مبارک کے مطابق گویا ماں کو باپ پر تین گنا فوقیت دی گئی ہے۔ اسی طرح ایک حدیث مبارک میں نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ ماں کے معاملے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی تمھیں تمھاری ماوں کے معاملے میں حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے اور باپ کے معاملے میں آپ ﷺ نے دو مرتبہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی تمہیں حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے یعنی یہاں بھی نبی کریم ﷺ نے ماں کا درجہ باپ سے زیادہ ہی ارشاد فرمایا ہے۔

ماں کے حقوق

6.   بچے کو سات سال تک اور اور بچی کو بلوغت تک اپنے پاس رکھنے کا حق ماں کا ہے۔ طلاق یا خلع کی صورت میں جو شوہر اولاد چھین لیتے ہیں وہ ظلم کرتے ہیں[15]۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: "جب تک تم نکاح ثانی نہیں کرتیں اس وقت تک تم ہی پرورش کی حقدار ہو، البتہ اخراجات شوہر کے ذمہ لازم ہیں"[16]۔

7.   ماں کی عزت و احترم باپ سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے آپﷺ نے ماں کو باپ پر ایک درجہ زیادہ حقدار قرار دیا ہے۔ ماں چاہے سگی ہو یا سوتیلی یا رضاعی یا غیر مسلم ہر حال میں حکم یکساں ہے۔[17]

8.   ماں کی کفالت یعنی ان کے کھانے پینے لباس رہائش کے اخراجات شوہر کے بعد اولاد کے ذمے ہیں۔

9.   اگر کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائےتو ماں کو دوسرے نکاح کا حق حاصل ہے۔ ایسے موقع پر اولاد یا رشتہ دوروں کو اسے اپنی غیرت کے خلاف سمجھنا غلط ہے۔



[1]        الکہف: 46

[2]        الفرقان: 74

[3]        ابو ذر القلمونی، ففروا الی اللہ( مکتبہ ابن تیمیہ، قاھرہ) ، 189

[4]        افضل الرحمن، دور جدید میں مسلمان عورت کا کردار(مترجم محمد ایوب، فیروز سنز لاہور، 1994ء)، 84

[5]        التحریم:2

[6]        رد المختار علی در المختار( الطباعۃ المصریۃ، 1271ھ)، 2: 233

[7]        الترمذی، السنن الترمذی، کتاب البر ماجآء فی رحمۃ الصبیان، 4: 322

[8]        عبداللہ بن وھب بن مسلم ، الجامع فی الحدیث، 1: 125

[9]        البخاری، الجامع الصحیح، کتاب النکاح، 3: 94

[10]       النساء: 4

[11]       السجستانی، سنن ابو داؤد، کتاب النکاح باب فی حق المراۃ علی زوجھا،رقم الحدیث: 2142

[12]       جلال الدین عمری، عورت اسلامی معاشرے میں(اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، 1994ء)، ص:366

[13]       مولانا تھانوی، حقوق العباد، ص: 218

[14]       السجستانی، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث: 2133

[15]       مولانا تھانوی، حقوق العباد، ص: 218

[16]       البقرۃ : 232

[17]       مولانا تھانوی، حقوق العباد، ص: 92-93


Share:

0 comments:

Post a Comment

Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive