Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

4/5/25

The Structure and Values of Family in Muslim Society مسلم معاشرے میں خاندان کی ساخت اور اقدار

مسلم معاشرے میں خاندان کی ساخت اور اقدار

خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جو کسی بھی اچھے یا برے معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے. انسانی زندگی پیدائش سے موت تک سیکھنے کے ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ جینیات, عقل ،تعلیم و تربیت ،رسوم و رواج ،عقائد ،غور و فکر ماحول اور معاشرہ یہ تمام وہ عناصر ہیں جو انسانی عقل کی نشونما اور شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں جن سے انسان کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ کیسا انسان ہے۔ انسان اپنی سوچ کا عکس ہوتا ہے جیسی سوچ ہوتی ہے ویسے رویے ہوتے ہیں اور جیسے رویے ہوتے ہیں ویسے عمل ہوتے ہیں۔ انسان کی سوچ بنتی کیسے ہے اور اسے تبدیل کیسے کیا جاسکتا ؟ زندگی کی ہر سحر کچھ سکھا کر اور ہر ڈھلتا سورج انسان کو کوئی نہ کوئی تجربہ دے کر جاتا ہے۔ اچھی تعلیم اور تربیت ہی انسانی سوچ کو تبدیل کر سکتی ہےجو انسان کو نہ صرف شعور دیتی ہے بلکہ انسانی عقل کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے ۔ انسان بہتر طریقے سے سوچنے اور چیزوں سمجھنے لگتا ہے اور اس سے اہم بات تسلیم کرنا ہیں اور جس انسان نے تسلیم کرنا سیکھا گویا وہی کامیاب انسان ہے انسانی تاریخ نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ ہر دور میں انسان کی پہلی فوقیت امن رہی ہے کیونکہ امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے انسانی اور معاشرتی ترقی ممکن ہے ۔معاشرے کی ترقی میں امن کا یقینا بہت بڑا کردار ہے لیکن اس سے بھی بڑا کردار میرا اور آپکا ہے ۔ ہم سب کا اور ہمارے خاندانوں کا ہے کہ جن پر یہ ذمہ داری آتی ہے کہ امن کو برقرار رکھنے اس کے تحفظ اور فروغ میں اپنا کردار ادا کریں ۔

امن کا سفر ایک فرد سے اور اس کے کنبہ سے شروع ہوتا ہے جس کے لیے تعلیم و تربیت اور شعور کا ہونا بہت لازمی ہیں ارسطو کا قول ہے کہ تم مجھے ایک تعلیم یافتہ ماں دو میں تمہیں ایک تعلیم یافتہ قوم دوں گا یہاں تعلیم سے مراد حقیقی سمجھ آگاہی اور شعور ہے کسی بھی چیز کو صرف جان لینا کافی نہیں بلکہ اس کی تحقیق لازمی ہے اور اس کی گہرائی انسان تب ہی جان سکتا ہے جب وہ اسے وقت اور توجہ دے امن کا یہ سفر سب سے پہلے ہمارے گھر سے شروع ہوتا ہے جب ہم اپنے بچے کو صحیح تربیت معیاری تعلیم اور چیزوں کو جاننے آگاہی شعور اور ان کو ایک سیٹ کرنے کی صلاحیت اپنے بچے میں پیدا کرتے ہیں تو وہ بچہ باسانی خیرو شر میں فرق کر سکتا ہے اپنے بچوں کو بری عادات، معاشرتی برائیوں سے بچنے میں مدد کرنی چاہئے۔ اپنے بچوں کو وقت دینا اور ان کی سرگرمیوں کو دیکھنا والدین کا فرض ہے ہمارے معاشرے میں اکثر والدین بچوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو معاف کر دیتے ہیں بعض اوقات بچہ اگر کوئی بڑی غلطی کر بھی لے تو والدین بجائے اس کو روکنے ٹوکنے کے ان پرپردہ ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ بری راہ اختیار کرتا ہے اور چھوٹی چھوٹی غلطیاں اسے غلطیاں نہیں لگتی ہیں اور بعد میں وہی غلطیاں گناہوں میں تبدیل ہو جاتی ہے جن کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

بہترین معاشرہ بہترین خاندانی نظام پر منحصر ہوتا ہے۔ اور بہترین خاندان افراد کی بنیادی ذمہ داریوں ادائیگی کے سبب تشکیل پاتا ہے۔ ہم بیک وقت کسی بھی خاندان میں مختلف حیثیتوں کے مالک ہوتےہیں۔ ہم اولاد، بہن بھائی، والدین اور ایسے ہی کئی رشتوں میں خاندان سے منسلک ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر حیثیت میں اپنی ذمہ داری بطریق احسن نبھائیں۔ والدین پر لازم ہے کہ جدید تقاضوں کی روشنی میں اولاد کی تربیت کریں۔ انھیں بہترین تعلیمی سہولیات دیں۔ اسی طرح بچوں پر لازم ہے کہ وہ والدین کی رہنمائی سے استفادہ کریں اور ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ معاشرے کی تشکیل میں ہر فرد کی حیثیت اہم ہے۔ ہر ایک شخص معاشرے کی اچھی یا بری تشکیل پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اسی لیئے ہر فرد کو اہمیت حاصل ہے۔ اقبال اس پر یوں گویا ہوئے ہیں:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

خاندان کی ابتدا مَرد اور عورت کی شادی سے ہوتی ہے، پھر ان کی اولاد کے ساتھ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یوں تو خاندان کو اپنی ساخت کے اعتبار سے کئی اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کی دو اقسام زیادہ مقبول اور اہم ہیں۔ ایک قسم ’’انفرادی خاندان‘‘کہلاتی ہے، جو میاں بیوی اور اُن کی اولاد پر مشتمل ہے۔ دوسری قسم ’’مشترکہ خاندان‘‘ ہے، جہاں کم از کم دو یا اس سے زیادہ نسلیں مل کر رہ رہی ہوں۔

خاندان کا ایک بڑا مفہوم قبیلہ تھا جو کہ ایک دوسرے کی مدد وتعاون کی اساس پرقائم ہو۔چاہے وہ مدد وتعاون ظلم پر ہی ہو ، توجب اسلام آیا تویہ سب غلط اشیاء کومٹا کرعدل وانصاف کرتے ہوئےہرحقدارکواسکاحقلےکردیاحتیدودھپیتےبچےکوبھیاسکاحقدلایا،حتیکہساقطہونےوالےبچہکوبھییہحقدیاکہاساسکیقدرکیجاۓاوراسپرنمازجنازہپڑہیجائے۔

اورآج کے موجودہ دورمیں یورپ کے خاندان کودیکھنے اوراس پرنظر دوڑانے والا اسے بالکل ٹوٹا پھوٹا اورجدا جدا ہوا چکے دیکھے گا والدین کوکسی قسم کوئ حق نہيں کہ وہ اولاد پرکنٹرول کرسکیں نہ توفکری اورنہ ہی خلقی اعتبار سے ۔یورپ میں بیٹے کویہ حق حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہے اورجو چاہے کرتا پھرے اسے کو‏ئ روکنے والا نہیں ، اوربیٹی کوبھی یہ آزادی ہے کہ وہ جہاں اورجس کے ساتھ مرضی بیٹھے اورآزادی اورحقوق کی ادائیگي کے نام سے جس کے ساتھ سوتی رہے اورراتیں بسرکرتی پھرے توپھرنتیجہ کیا ہوگا ؟

بکھرے خاندان ، شادی کے بغیر پیداشدہ بچے ، اورماں باپ کا خیال رکھنے والا کو‏ئ نہیں اورنہ ان کا کوئ غمخوار ہے ، کسی عقلمند نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ :

"اگرآپ ان لوگوں کی حقیقت کا جاننا چاہتے ہيں توآپ جیلوں اورہسپتالوں اوربوڑھے لوگوں کے گھروں میں جا کر دیکھے ، اولاد اپنے والدین کوصرف تہواروں اور کسی خاص فنگشنوں میں ہی ملتے ہیں اوروہیں ان کی ایک دوسرے سے پہچان ہوتی ہے" ۔

توشاھد یہ ہے کہ غیرمسلموں کے ہاں خاندان ایک تباہ حالی کی حیثیت رکھتا تھا جب اسلام آیاتو اس نے خاندان کواکٹھااوراسے استوار کرنے کا بہت زيادہ خیال رکھتے ہوۓاسہراسچيزسےحفاظتکیجواسکےلیےنقصاندہاوراذیتکاباعثبنسکے۔

اورخاندان کوایک دوسرے کے ساتھ ملانے کی حفاظت کرتے ہوۓاسکےہرفردکواسکیزندگیمیںاہمکرداربھیدیاجسےاداکرکےایکاچھاخاندانبنسکتاہے۔

خاندان کی ساخت

 

والدین کا کردار

والدین سے حسن سلوک کو اسلام نے اپنی اساسی تعلیم قرار دیا ہے۔ اور ان کے ساتھ مطلوبہ سلوک بیان کرنے کے لئے ’’احسان‘‘ کی جامع اصطلاح استعمال کی جس کے معانی کمال درجہ کا حسن سلوک ہے۔ہر مرد اور عورت پر اپنے ماں باپ کے حقوق ادا کرنا فرض ہے۔ والدین کے حقوق کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد ہوتاہے۔

وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًاO وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًاO[1]

’’اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔‘‘

والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہے بوڑھے ہوں یا جوان، لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے کہ اس عمر میں جاکر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور عقل و فہم بھی جواب دینے لگتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ وہ خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات و مطالبات بھی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے ان سابق احسان کا بدلہ ادا کرو۔

جس طرح قرآن حکیم میں والدین کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اسی طرح کئی احادیثِ مبارکہ میں بھی والدین کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو)۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے والدین کی خدمت کرنے کو جہاد سے افضل قرار دیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شریک جہاد ہونے کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا، آپ نے اس سے دریافت کیا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا فَفِيْھَا فَجَاِھد یعنی بس اب تم ماں باپ کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو یعنی ان کی خدمت سے ہی جہاد کا ثواب مل جائے گا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کوئی شخص اپنے والدین پر بھی لعنت کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

يَسُبُّ الرَّجُلُ أبَا الرَّجُلِ فَيَسُبَّ أبَاهُ، وَيَسُبُّ أمُّهُ فَيَسُبُّ أمُّهُ.

’’کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا یہ اور کوئی شخص کسی کی ماں کو گالی دیے اور وہ (بدلے میں) اس کی ماں کو گالی دے (تو یہ اپنے والدین پر لعنت کے مترادف ہے)۔‘‘

اسی طرح آپ ﷺ نے والدین کے انتقال کے بعد بھی نیک اعمال کا ایصال ثواب اور ان کے دوستوں سے حسنِ سلوک کی صورت میں ان سے حسن سلوک جاری رکھنے کی تعلیم دی۔

بہن بھائیوں کا کردار

بہن بھائیوں کا تعلق ان رشتہ داروں سے ہے جن کے متعلق صلہ رحمی کا حکم شریعت میں دیا گیا ہے؛ جیسے کہ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے: (اللہ تعالی نے فرمایا: میں رحمن ہوں، اور [رشتہ داری کیلیے عربی لفظ]رحم کو میں نے اپنے نام سے کشید کیا ہے، چنانچہ جو شخص رحم [رشتہ داری کو] جوڑے گا میں اسے جوڑ دوں گا اور جو اسے توڑے گا میں اسے جڑ سے توڑ دوں گا) ۔رسول اللہﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (جس شخص کو اچھا لگتا ہے کہ اسے لمبی عمر دی جائے اور اس کا رزق فراخ کر دیا جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔) دیگر مسلمانوں کے ساتھ بہن بھائیوں اور والدین کے مشترکہ حقوق جن میں والدین اور بہن بھائیوں کو واضح ترجیح حاصل ہے ان میں یہ بھی شامل ہے کہ : جب بھی آپ ان سے ملیں تو انہیں سلام کہیں، جب آپ کو دعوت دیں تو ان کی دعوت قبول کریں، جب چھینک لے کر الحمدللہ کہیں تو اس کا جواب دیں، وہ بیمار ہوں تو ان کی تیمار داری کریں، اگر فوت ہو جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت کریں، اگر وہ آپ پر قسم ڈال دیں تو ان کی قسم کو پورا کریں، جب آپ سے مشورہ طلب کریں تو انہیں صحیح مشورہ دیں، ان کی عدم موجودگی میں ان کے حقوق کی حفاظت کریں، آپ ان کے لیے بھی وہی پسند کریں جو آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اسی طرح جو اپنے لیے اچھا نہیں سمجھتے دوسروں کے لیے بھی اچھا مت سمجھیں۔ ان تمام امور سے متعلق صحیح احادیث موجود ہیں۔اسی طرح بہن بھائیوں اور والدین میں سے کسی کو بھی عملی یا قولی کسی بھی قسم کی اذیت نہ پہنچائیں؛ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر تمام مسلمان محفوظ ہوں)۔اسی طرح ایک اور لمبی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اچھے اعمال  کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (اگر تم [کسی کا بھلا کرنے کی ] استطاعت نہیں رکھتے تو پھر لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو؛ کیونکہ یہ تمہارے لیے اپنی جان پر صدقہ ہے۔)

میاں بیوی کا کردار

واضح رہے کہ میاں بیوی کا رشتہ قاعدوں اور ضابطوں کے بجائے حسن اخلاق سے نبھایا جائے تو یہ رشتہ کامیاب رہتا ہے ،ضابطہ کی روسے جہاں بہت ساری ذمہ داریاں بیوی پر عائد نہیں ہوتیں وہیں شوہر بھی بہت سے معاملات میں بری الذمہ ہوجاتا ہے ۔  لیکن دوسری طرف حسن معاشرت کا تقاضا اور بیوی کی سعادت ونیک بختی اس میں ہے کہ وہ شوہر اور اس کے والدین کی خدمت بجالائے نیزاگر کبھی شوہر کسی خدمت کا حکم دے تو اس صورت میں بیوی پر اس کی تعمیل واجب ہوجاتی ہے۔شوہرکی خدمت ،تابعداری اوراطاعت کے سلسلہ میں رسول اللہﷺ کے بے شمارارشادات موجودہیں،چناں چہ ایک حدیث میں ہے:

''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اگرمیں کسی کویہ حکم کرتاکہ وہ کسی (غیراللہ)کوسجدہ کرے تومیں یقیناًعورت کوحکم کرتاکہ وہ اپنے خاوندکرسجدہ کرے۔"

صاحب مظاہرحق اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:

''مطلب یہ ہے کہ رب معبودکے علاوہ اورکسی کوسجدہ کرنادرست نہیں ہے اگرکسی غیراللہ کوسجدہ کرنادرست ہوتاتومیں عورت کوحکم دیتاکہ وہ اپنے خاوندکوسجدہ کرے،کیوں کہ بیوی پراس کے خاوندکے بہت زیادہ حقوق ہیں،جن کی ادائیگی کرسے وہ عاجزہے،گویااس ارشادگرامی میں اس بات کی اہمیت وتاکیدکوبیان کیاگیاہے کہ بیوی پراپنے شوہرکی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے۔"

نیزشوہروں کوبھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ حسن سلوک کی تاکیدکی گئی ہے،چنانچہ ایک روایت میں ہے:

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں بہترین شخص وہ ہے جواپنے اہل(بیوی،بچوں،اقرباء اورخدمت گاروں)کے حق میں بہترین ہو،اورمیں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔"

اس مسئلہ میں اعتدال کی ضرورت ہے،نہ یہ  کہ تمام ذمہ داریاں بیوی پرڈال دی جائیں اورنہ یہ کہ بیوی اپنے ضرورت مندشوہریاساس،سسرکی خدمت سے بھی دامن کش ہوجائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اورحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہماکے نکاح کے بعد کام کی تقسیم اس طرح فرمائی تھی کہ باہرکاکام اورذمہ داریاں حضرت علی رضی اللہ عنہ انجام دیں گے اورگھریلوکام کاج اورذمہ داریاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکے سپردہوں گی۔جب سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی اس ذمہ داری سے مستثنیٰ نہیں تودوسری خواتین کے لیے کیوں کراس کی گنجائش ہوسکتی ہے؟

اسی طرح شادی کے بعد میاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے، ا س کے بغیر پرسکون زندگی کاحصول محال ہے، شریعتِ مطہرہ  میں میاں بیوی کے باہمی حقوق کو  بہت اہمیت  کے ساتھ  بیان  کیا گیا ہے اور  دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کے بہت تاکید کی گئی ہے۔



[1]۔ الاسراء: 23-24

 

Share:

0 comments:

Post a Comment

Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive